شام: یو این مبصرین تحقیقات کیلیے روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کے مبصرین شام کے صوبے حما میں تریمسہ نامی گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کر ہے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی اطلاعات ہیں۔

دمشق کے پچیس کلومیٹر شمال مغرب کی جانب واقع اس گاؤں کے لیے تحقیقاتی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تریمسہ نامی اس گاؤں میں دو سو افراد کو قتل کیاگیا ہے۔ اس واقعے پر بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی ہے تاہم اس میں عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مبصرین نے خبر رساں ادارے ای ایف ای کو بتایا کہ تین گاڑیوں میں مبصرین کا قافلہ سنیچر کو تریمسہ کے لیے روانہ ہوا ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی رہنماؤں نے شام کےصوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتلِ عام کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا قتل عام پر کہنا تھا کہ اس واقع نے شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے امن منصوبے پر عملدرآمد کے وعدے کو شک میں ڈال دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شامی حکومت جان بوجھ کر بے قصور شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ظالمانہ اقدامات کرنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں شام کے صوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں قتل عام کی خبریں سن کر شدید دھچکا پہنچا ہے۔

کوفی عنان نے حما کے گاؤں تریمسہ میں ہونے والے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت نے چھ نقاطی امن منصوبے کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے مبصرین نے شام میں شدید جنگ کی تصدیق کی ہے جس میں توپ خانے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استمال ہوئے۔

ادھر شامی نے متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان میں عام شہری نہیں تھے۔

اس سے پہلے حکومت مخالف گروہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شامی فوجوں نے حما کے گاؤں تریمسہ میں قتل عام کیا جس میں دو سو کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے تھے تاہم بعد میں ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں جنگجو بھی شامل تھے۔

دریں اثناء امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام میں جاری تشدد کی مزمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مربوط ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کا مینڈیٹ بیس جولائی کو ختم ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں اپنے مبصر مشن کے مستقبل کے لیے نئی قرار داد لانے پر تذبذب کا شکار ہے۔

دوسری جانب شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردوں نے شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

صنعا نیوز ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شامی فوج نے دہشت گردوں کو کچلنے کے لیے تریمسہ میں فوجی آپریشن کیا جس کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے۔

اس سے پہلے حزب اختلاف نے کہا تھا کہ شام کے صوبے حما کے گاؤں تریمسہ میں مرنے والے زیادہ تر مرد تھے۔

شام سے ملنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج باغیوں سے تریمسہ کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک سولہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں