صدر کرزئی کے حامی، رشید دوستم کے مخالف ہلاک

رشید دوستم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احمد خان سمنگنی ازبک فوجی جنرل عبدالرشید دوستم کے بدترین مخالف سمجھے جاتے تھے

شمالی افغانستان میں ایک شادی کی تقریب میں خودکش دھماکے میںاہم سیاسی رہنما اور افغان پارلیمنٹ کے ممبر سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملے میں چالیس سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ صوبہ سمنگن کے دارالحکومت ایبک میں ہوا۔ اس حملے میں افغان پارلیمنٹ کے ممبر احمد خان سمنگنی ہلاک ہوئے۔ خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب وہ احمد خان سے بغیلگیر ہوئے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق احمد خان سابق ملیشیا کمانڈر ہیں اور وہ افغان پارلیمان کے رکن بھی ہیں۔ احمد خان سمنگن ازبک تھے لیکن وہ پشتون صدر حامد کرزئی کے حامی اور ازبک فوجی جنرل عبدالرشید دوستم کے سب سے بڑے مخالف تھے۔

طالبان کے ترجمان زبیح اللہ نے اس حملے میں طالبان کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ طالبان ترجمان زبیح اللہ نے خبررساں ادارے رائٹر کوبتایا کہ طالبان اس حملے میں ملوث نہیں ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب احمد خان سمنگنی اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ اس ہال میں دھماکے کے وقت ایک سو افراد موجود تھے۔

صوبائی پولیس کے کرمنل ڈائریکٹر غلام محمد خان نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ اس حملے میں احمد خان سمنگنی کے علاوہ افغان نیشنل آرمی کے سینیئر کمانڈر اور صوبائی انٹیلیجنس چیف بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب ایک روز قبل لغمان صوبے میں ایک اہم خاتون ممبر پارلیمنٹ حنیفا صافی ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئی تھیں۔

احمد خان سمنگنی اسی کی دہائی میں جنجگو سردار تھے اور مختلف وقتوں میں ازبک کمانڈر رشید دوستم اور محمد عطا کے ساتھی رہے ہیں۔ محمد خان سمنگنی الزام لگاتے رہے ہیں کہ رشید دوستم نے 2007 میں انہیں قتل کروانے کی کوشش کی تھی جس میں ان کے ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے۔

.

اسی بارے میں