مصری حکمران شہری حقوق کا تحفظ کریں، ہلری کلنٹن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اخوان المسلمین کے محمد مرسی جون میں مصر کے پہلے آزادانہ صدر منتخب ہوئے تھے

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین تنطاوی سے ملاقات میں مصری شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ سنیچر کو مصر کے دورے پر پہنچی تھیں۔

تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ نے صدر محمد مرسی کو اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام مصری شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے سنیچر کو وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے صدر محمد مرسی کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق ’ملک میں اقتدار کی منتقلی اور فوجی کونسل کے صدر مرسی کے ساتھ جاری بات چیت کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، امریکی وزیر خارجہ نے مصر میں خواتین اور اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔‘

امریکی وزیر خارجہ قاہرہ میں فوجی قیادت سے ملاقات کے بعد مصر کے دوسرے بڑے شہر اور اخوان المسلمین کے مضبوط گڑھ اسکندریہ جائیں گی اور وہاں سے اسرائیل روانہ ہو جائیں گی۔

اس سے پہلے سنیچر کو انہوں نے مصری صدر سے ہونے والی ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ مصر میں جمہوریت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ایک امریکی اہکار نے صدر مرسی اور ہلری کلنٹن کی ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کو بے تکلف اور پر جوش قرار دیا۔

مصری صدر سے بعد ملاقات کے بعد قاہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ مصر اس لیے آئی ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ واشنگٹن مصری عوام اور جمہوریت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم اچھے دوست بننا چاہتے ہیں اور جمہوریت کی حمایت کرنا چاہتے ہیں جو مصری عوام نے قربانیاں دے کر حاصل کی ہے۔‘

واضح رہے کہ صدر مرسی فوج کے ہاتھوں عدلیہ کے احکام پر تحلیل شدہ پارلیمان کو بحال کرنے کے بعد ایک آئینی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

اخوان المسلمین کے محمد مرسی جون میں مصر کے پہلے آزادانہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر مرسی فوج کے ہاتھوں عدلیہ کے احکام پر تحلیل شدہ پارلیمان کو بحال کرنے کے بعد ایک آئینی بحران کا سامنا کر رہے ہیں

قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ کا موقف تھا کہ وہ اخوان المسلمین سے نہ بات چیت کرتے ہیں اور نہ ہی کبھی کرائیں گے۔

نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ نے نو منتخب مصری صدر سے بات چیت کا رستہ کھولنے میں کوئی تاخیر نہیں کی اور یہ حقیقت کو پہچاننے اور حالات کے بہترین استعمال کی مثال ہے۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ مصر میں جمہوریت اور انسانی حقوق پامال نہ ہوں۔

اخوان المسلمین نے کئی مرتبہ اس بات کی تائید کی ہے کہ وہ عالمی طور پر تنہا نہیں ہونا چاہتے۔ مصر کی معیشت کا انحصار بین الاقوامی تجارت اور سیاحت پر بہت زیادہ ہے۔

صدر مرسی نے پارلیمان کی بحالی کے معاملے پر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ نو منتخب پارلیمان میں صدر محمد مرسی کی پارٹی کے ارکان کی اکثریت ہے۔

صدر کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فوج نے پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا جس کی وجہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ اعتراض تھا کہ انتخابات میں آزاد امیدواروں کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر پارٹی اہلکاروں نے مقابلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں