سوڈان اور جنوبی سوڈان کے صدور میں ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کو تنازع حل کرنے کے لیے دو اگست کی حتمی تاریخ دے رکھی ہے

اپریل میں ایک سرحدی تنازع کی وجہ سے جنگ کے قریب پہنچ جانے والے ہمسایہ ممالک، سوڈان اور جنوبی سوڈان کے صدور کے بیچ اس تنازع کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی ہے۔

سوڈانی صدر عمر البشیر اور ان کے ہم منصب سالوا کیر کے بیچ یہ ملاقات ایتھوپیہ کے دارالحکومت ادیسہ بابا میں جاری افریقی یونین کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران ہوئی۔

جنوبی سوڈان نے سنہ دو ہزار گیارہ کے آخر میں ہی سوڈان کی ریاست سے آزادی حاصل کی ہے اور ابھی بھی دونوں ممالک کے بیچ بہت سے معاملات طے پانے ہیں۔

اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کو تنازع حل کرنے کے لیے دو اگست کی حتمی تاریخ دے رکھی ہے۔

جو معاملات ابھی طے پانے ہیں ان میں سرحد کا تعین، تیل کے ذخائر، راہداری فیسں اور قومی قرضے کی تقسیم شامل ہیں۔

ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے معاملات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم اس کے آخر میں دونوں رہنمائبوں نے علامتی طور پر ہاتھ ملائے۔

دونوں رہنمائوں کے بیچ آخری ملاقات جنوری میں افریقی یونین کے گزشتہ اجلاس میں ہوئی تھی۔

افریقی یونین کے جاری اجلاس میں دونوں حکومتوں سے اقوام متحدہ کی دی گئی مہلت سے پہلے تمام معاملات طے کرنے کے لیے کہا گیا۔

دونوں ممالک کے بیچ اپریل میں ہیگلگ کے سرحدی علاقے پر لڑائی جب ایک مکمل جنگی محاز کی شکل اختیار کرنے کو تھی تو اقوام متحدہ نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک کو تین ماہ کی مہلت دی۔

جنوبی سوڈان کی جولائی دو ہزار گیارہ میں آزادی سے امید کی جا رہی تھی کہ گزشتہ پچاس سال سے جاری تنازعات ختم ہو جائیں گے تاہم خطے میں تناؤ ابھی بھی باقی ہے۔

سنیچر کو ہونے والی اس ملاقات سے کسی فوری حل کی امید تو نہیں رکھی جا سکتی تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک معاملات حل کرنے کے لیے دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں