کوفی عنان نے بیان جلدی بازی میں دیا، شام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس کے مطابق شامی فورسز نے حما صوبے کے علاقے تریمسہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

شام نے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نہ بہت جلد بازی میں بیان دیا ہے۔

شامی حکومی نے مزید کہا کہ علاقے میں فوجیوں کو لیجانے والے گاڑیاں اور چھوٹے ہتھیار ہی استعمال ہوئے ہیں۔

شامی حکومت کا موقف ہے کہ علاقے میں جو کچھ ہوا وہ دراصل مسلح جھڑپیں تھیں ناکہ قتلِ عام، جس میں اب تک صرف سینتیس ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ تاہم حزبِ مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اقوام مِتحدہ کے مبصرین معاملے کی تحقیقات کے لیے دوبارہ تریمسہ پہنچے ہیں۔

انہیں ابھی یہ جاننا ہے کہ واقعے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے اور یہ کون لوگ تھے اور یہ بھی کہ یہ حملہ کس نے کیا۔

دمشق میں شام کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’اس حملہ میں کوئی ہیلی کاپٹر، فضائی جہاز، یا مسلح ٹینک استعمال نہیں کیے گئے۔ کارروائی میں صرف چھوٹے ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں دستی بم شامل ہیں۔

جہاد مقدسی کا کہنا ہے کہ کوفی عنان نے شامی وزیرِ خارجہ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق بات بنا تصدیق کر دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا’ ہمیں مسٹر کوفی عنان کا ایک خط ملا ہے جسں میں وہ وزیرِ خارجہ ولید ملائم سے مخاطب ہیں۔ اس بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تریمسہ میں جو کچھ ہوا اس بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ حقیقیت پر مبنی نہیں ہے۔ جہاں تک ممکن ہے سفارتی طور پر ہم کہیں گے کہ یہ خط بہت جلد بازی میں لکھا گیا ہے۔ ‘

مقدسی کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں پانچ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جو ’مسلح دہشت گردوں‘ کی پناہ گاہیں تھیں۔‘

انہوں نے کہا یہ حملے بہت چھوٹی جگہ پر کیا گیا جہاں فوجی ٹینک نہیں لے جائے جا سکتے تھے۔

مقدسی کا کہنا تھا ’یہ قتلِ عام نہیں تھا بلکہ مسلح گروہوں کے خلاف فوج کی کارروائی تھی جو شام میں کشیدگی کا سیاسی حل نہیں چاہتے۔‘

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی ابتدائی تحقیقات کا ذکر کیا جو شامی حکومتی کے اس موقف کی تائید کرتی ہیں کے حملے مںی صرف مسلح باغیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم مبصرین نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ حملے میں بھاری ہتھیاروں ا استعمال کیا گیا جو کہ کوفی عنان کے امن منصوبے کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن جہاد مقدسی کا کہنا ہے کہ اگر بھاری ہتھیار استعمال ہوئے بھی ہیں تو وہ باغیوں نے کیے ہوں گے۔

حکومت مخالف گروہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بدھ کو شامی فوجوں نے حما کے ایک گاؤں میں قتل عام کیا ہے جس میں دو سو کے قریب عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں