شمالی کوریا: فوجی سربراہ ری یونگ ہو برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ری یونگ ہو ان سات اعلیٰ سطحی عہدیداروں میں بھی شامل تھے جو کہ کم جونگ آن کے ساتھ ان کے والد کے ریاستی جنازے کے پیچھے چلے

شمالی کوریا میں ریاستی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فوج کے سربراہ ری یونگ ہو کو تمام سرکاری عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

فوج کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بااثر مرکزی عسکری کمشن کے نائب چیئرمین اور حکمراں ’ورکرز‘ پارٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائض تھے۔

ایک مختصر بیان میں پارٹی کا کہنا تھا کہ انہیں بیماری کی وجہ سے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ بیان میں ان کے متبادل کا ذکر نہیں کیا گیا۔

سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیئمسن کا کہنا ہے کہ اس وضاحت کے بارے میں کئی شکوک ہیں۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو ورکرز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

ری یونگ ہو کو تین سال پہلے کوریا کے حالیہ سربراہ کے والد، کم جونگ ال، کی حکومت میں تعینات کیا گیا تھا۔ کوریا پر تقریباً بیس سال حکومت کرنے والے کم جونگ ال کی دسمبر دو ہزار گیارہ میں وفات ہوگئی تھی۔سابق فوجی سربراہ اکثر ریاستی موقعوں پر کم جونگ ال کے ہمراہ نظر آتے تھے۔

ری یونگ ہو ان سات اعلیٰ سطحی عہدیداروں میں بھی شامل تھے جو کہ کم جونگ آن کے ساتھ ان کے والد کے ریاستی جنازے کے پیچھے چلے۔

انہیں کم جونگ آن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک مانا جاتا تھا اور نئے رہنماء کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے میں انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔

تجزیہ کار اب ان کی برطرفی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ شمالی کوریا کے نوجوان اور غیر تجربہ کار سربراہ ملک کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔

ہماری نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں فوج پر اثر، اقتدار قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اپریل میں شمالی کوریا نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایک راکٹ تجربہ کیا تھا جسے ہمسایہ ممالک نےمیزائل قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں