چین کا امریکہ پرمنافقانہ رویہ اپنانے کا الزام

امریکی کھلاڑی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی کھلاڑیوں کی یونیفارم چین میں تیار ہوئی ہے

لندن میں ابھی اولمپک کھیلوں کی ابتدا تو نہیں ہوئی لیکن اس کے حوالے سے امریکہ اور چین کے درمیان ایک نیا تنازع ضرور کھڑا ہوگیا ہے۔

دونوں ملکوں میں پرجوش توتو میں میں اس بات پر نہیں ہے کہ اولمپکس میں کون سی ٹیم سب سے زیادہ میڈل جیتےگی اور کون کھیل کے میدان میں سپر پاور ہوگا۔ بلکہ معاملہ امریکہ کا وہ خدشہ ہے کہ چین اسے فریب دیتا ہے۔ یہ فریب کھیل کے میدان میں نہیں بلکہ اقتصادی شعبے میں ہے۔

نیا تنازع اس بات پر کھڑا ہوا ہے کہ اولمپکس کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں امریکی کھلاڑی جو بلیزر (کوٹ ) اور مختلف لباس پہننے والے ہیں وہ چین میں تیار کیے گئے ہیں۔ ان ملبوسات کو معروف کمپنی رالف لوریئن نے ڈیزائن کیا ہے لیکن یہ تیار چین میں ہوئے ہیں۔

ایک ایسے وقت جب امریکہ میں بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد ہے کانگریس کے بعض ارکان اس بات سے ناراض ہیں کہ ان کپڑوں کی سلائي امریکہ میں کیوں نہیں کی گئي۔

سینیٹ میں اکثریتی لیڈر ہیری ریڈ نے کہا کہ ’میرے خیال میں ان تمام کپڑوں کو جمع کر کے ایک جگہ بڑا ڈھیر لگا کر آگ لگانی دینی چاہیے اور دوبارہ تیار کرنا چاہیے۔‘

لیکن چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنوا نے اس پر اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ ’بعض امریکی سیاست دانوں کی باتوں میں منافقت نظر آتی ہے۔‘ واضح رہے کہ یہ بیان ایجنسی کا ہے اور اسے باضابطہ سرکاری بیان نہیں مانا جا سکتا ہے۔

ایجنسی کا کہنا تھا کہ ’اولمپک کی روح، جس کا سیاست سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا، دوطرفہ سمجھداری اور منصفانہ کھیل پر ہوتی ہے، تو امریکی سیاست دانوں کی جانب سے یونیفارم کو سیاست سے جوڑنا ان کی تنگ نظر قوم پرستی، جاہلانہ رویہ اور اولمپکس کی حقیقی روح کی مخالفت کی مظہر ہے۔‘

لیکن امریکہ فیئر پلے یعنی جائز کھیل کے حوالے سے ہی پریشان ہے۔ ان کا خوف یہ ہے کہ چین اپنی معاشی پالیسیوں میں انصاف پسند نہیں ہے، وہ برآمد کرنے والوں کو سستی زمین کے روپ میں رعایت دیتا ہے، سستے قرض مہیا کرتا ہے اور دیگر طرح کی مدد کرتا ہے جو امریکی صنعت اور روزگار کے لیے نقصان دہ ہے۔

کپڑا بنانے والی کمپنی رالف لوریئن پر بھی اسی لیے سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے کہ آخر جب امریکہ میں ٹیکسٹائل شعبے کے بہت سے لوگ بے روز ہیں تو اس نے کھلاڑیوں کے کپڑے سلوانے کے لیے چین کا انتخاب کیوں کیا۔

کمپنی نے اس نکتہ چینی کے بعد کہا ہے کہ وہ اگلے اولمپک ’دو ہزار چودہ کے موسم سرما کے کھیل‘ کے لیے کپڑے امریکہ میں ہی تیار کرےگی۔

ژنوا نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ میں اس طرح کی جذباتی باتیں آئندہ ہونے والے انتخابات کے سبب ہو رہی ہیں۔ الیکشن کے سال میں کیپٹل ہل کی عمارت میں یہ ایک اور پر جوش سیاسی بحث ہے جس میں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔‘

امریکہ میں آئندہ نومبر میں صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں جس کی انتخابی مہم تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اسی کے تحت براک اوباما قدامت پسند پارٹی کے امیدوار مٹ رومنی پر آؤٹ سورسنگ، (بیرون ممالک سے کام لینے) کے حوالے سے کئی بار نکتہ چینی کر چکے ہیں۔

لیکن مٹ رومنی نے بھی اوباما پر اسی حوالے سے نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ اوباما آؤٹ سورسنگ کے چیف ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ڈیموکریٹ سینیٹر ایک ایسا بل متعارف کرانے والے ہیں جس میں اس طرح کے یونیفارم کو امریکہ میں تیار کرنا ضروری ہوگا۔

امریکہ میں اقتصادی مندی کے بعد سے آؤٹ سورسنگ کا مسئلہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ ابھی بھی ملک میں بے روز گاری زیادہ ہے اور انتخابات کے پیش منظر اس پر بحث اور تیز ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں