بلغاریہ:حملہ آور کی ٹی وی فوٹیج جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلغارین حکام نے جمعرات کو جاری کی جس فوٹیج میں لمبے بالوں والا ایک سفید فام شخص ایک بستہ کمر پر لادے ائرپورٹ کے ٹرمنل پر ٹہلتا نظر آرہا ہے۔

بلغارین حکام نے جمعرات کو ایک ایسے شخص کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی سیاحوں کی بس پر ہونے والے حملے میں ملوث ہے۔

فوٹیج میں ایک لمبے بالوں والے سفید فام شخص کو، جس کی عمر تقریباً چھتیس برس ہے، ایک بستہ کمر پر لادے ہوائی اڈے کے ٹرمینل پر ٹہلتا دیکھا جا سکتا ہے۔

اس حملے میں پانچ اسرائیلی اور ایک بلغارین شہری اور حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا تھا جبکہ تقریباً تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی شدید زخمی بھی ہیں۔

اسرائیل نے لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ اور ایران پر اس حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ تہران سختی سے ’ہر قسم کے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے‘۔ دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سی ابھی تک کسی قسم کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

بی بی سی کے جان ڈونیسن کے مطابق یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خفیہ جنگ کا حصہ ہو سکتا ہے جبکہ بعض مبصرین کے خیال میں یہ حملہ کچھ عرصے سے نمایاں ایرانی سائنسدانوں پر ہونے والے حملوں کی جوابی کارروائی ہو سکتا ہے۔

بلغاریہ کے وزیرِ داخلہ کے مطابق حملہ آور حملے سے سات دن پہلے تک سے ملک میں موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ حملہ آور کو اندرون ملک سے مدد ملی‘ لیکن انہوں اس امر کی مزید وضاحت نہیں کی۔

بلغارین حکام اب ڈی این اے کی مدد سے حملہ آور کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس شخص کے پاس ایک جعلی امریکی ڈرائیونگ لائسنس تھا۔

جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ یہ حملہ ’ایران کے سب سے بڑے دہشت گردی گماشتے حزب اللہ نے کیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ حملہ حزب اللہ اور ایران کی طرف سے ایک عالمی دہشت گردی مہم کا حصہ ہے اور اسرائیل اس ایرانی جارحیت کا جواب پوری قوت سے دے گا‘۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ ماضی میں اسرائیلیوں پر ہندوستان، تھائی لینڈ، آذربائیجان، کینیا اور قبرص میں ہونے والے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

اسرائیلی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور جمعرات کو ان نعشوں کو اسرائیل واپس لے جایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنوری میں بلغاریہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ بس کے ذریعے سفر کرنے والے اسرائیلی سیاحوں کی حفاظت کے انتظامات کو بہتر کرے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ترکی سے بلغاریہ جانے والی اسرائیلی سیاحوں کی ایک بس سے مشکوک سامان کے ملنے کی اطلاعات بھی آئی تھیں۔

اسی بارے میں