شام: مبصر مشن میں ایک ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاقِ رائے سے شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو ہونے والے طویل اجلاس کے بعد اس قرار داد کی منظوری دی۔

اس سے پہلے روس نے برطانیہ کی حمایت یافتہ قرار داد کو وٹیو کرنے کی دھمکی دی تھی تاہم ماسکو کے سفیر نے بعد ازاں قرار داد کے ترمیم شدہ مسودے کی حمایت کی۔

قرار داد کے مطابق شام میں اقوام متحدہ کا مبصر مشن ایک ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا تاہم اس مشن میں مزید توسیع اس بات پر منحصر ہوگی کہ ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور سلامتی کونسل کی جانب سے تشدد کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کے منصوبے کی فریقین پابندی کریں۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر مارک لایل گرانٹ نے کہا ’ہم واضح طورپر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ آخری توسیع ہوگی اور اس میں کس قسم کی تبدیلی اسی وقت ہو سکتی ہے جب زمینی حالات میں تبدیلی آئے خاص طور بھاری ہتھیاروں کے استعمال میں کمی اور تشدد میں بھی خاطر خواہ کمی ہو تاکہ شام میں اقوام متحدہ کے مشن کو نافذ کرنے میں سہولت ہو۔‘

امریکی سفیر سوزین رائس نے کہا ہے کہ شام میں تشدد میں اس قدر کمی آنے کے امکانات کم ہیں جس سے کہ اقوام متحدہ کی وہاں موجودگی جاری رہ سکے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جمعہ کو مغربی طاقتوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ کی جانے والی تمام کوششیں بے اثر ہوں گی اور اس سے صرف اس ادارے کے اختیارات متاثر ہوں گے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو دمشق کے حلیف روس اور چین نے شام سے متعلق ایک قرارداد کو گزشتہ نو مہینوں میں تیسری دفعہ ویٹو کر دیا تھا۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شام میں بھاری ہتھیاروں اور لڑائی کی شدت میں کمی آنے کی صورت میں مبصر مشن کی مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے شام میں فائر بندی کا جائزہ لینے کے لیے ایک مبصر مشن بھیجا تھا تاہم وہاں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے اس مشن کو اپنا کام معطل کرنا پڑا۔

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق میں جاری لڑائی کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کا انخلاء جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق شامی افواج نے دمشق میں باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

شامی فوج نے باغیوں سے میدن ضلع کا کنٹرول واپس لے لیا ہے جبکہ مشرقی علاقے میں بھی بڑی کارروائی کی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے باغی فوجیوں نے جمعرات کو ترکی اور عراق کی سرحد پر شامی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں