دنیا کی بلند ترین عمارت میں دفاتر خالی

برج خلیفہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس میں ایک سو ساٹھ منزلیں ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی اسّی فیصد رہائشی منزلوں میں لوگ مقیم ہیں لیکن عمارت کی تجارتی منزلیں زیادہ تر خالی ہیں۔

دبئی میں واقع اس عمارت کی اونچائی آٹھ سو اٹھائیس میٹر یعنی ستائیس سو سترہ فٹ بتائی جاتی ہے اور یہ ایک سو ساٹھ منزلوں پر مشتمل ہے۔

اس میں ارمانی کا ایک برانڈ ہوٹل، مشاہداتی ڈیک، 900 عالیشان اپارٹمنٹس ہیں جبکہ تجارتی دفاتر کے لیے سینتیس منزلیں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سائمن ایٹکنسن کا کہنا ہے کہ جہاں ہوٹل ہمیشہ تیل سے مالامال ممالک سے آنے والے مہمانوں سے بھرے رہتے ہیں وہیں برج خلیفہ کی ایک سو چوبیسویں منزل سے ریگستان کا نظارہ دیکھنے کے لیے لوگ چار سو درہم یعنی قریب ایک سو آٹھ امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں اور وہاں سے ہالی وڈ اداکار ٹام کروز کی فلم ’مشن امپاسیبل‘ جیسی ایک تصویر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پراپرٹی میں آنے والی گراوٹ کے باوجود برج خلیفہ کے اسّی فیصد لگژری اپارٹمنٹس میں لوگ قیام پذیر ہیں اور گذشتہ سال ان کی قیمتوں میں دس فیصد کا اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

لیکن دفاتر کے حالات اتنے اچھے نظر نہیں آتے ہیں۔ حالانکہ ایمار ڈویلپرز کی جانب سے کوئی باقاعدہ اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہر چند کہ تجارت میں تیزی کے سالوں میں تمام دفاتر پوری طرح تیار ہونے سے پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے لیکن ابھی تک اس کی دو تہائی یعنی بیس سے زائد منزلیں خالی ہیں۔

پراپرٹی کی ماہر فرم جونس لینگ لا سیلے کے مشرق وسطیٰ کے چیف ایگزیکٹو ایلن رابرٹسن کا کہنا ہے کہ اس کی عملی وجہ یہ ہے کہ پچاس میٹر کے فاصلے پر ہی اتنی ہی اچھی پراپرٹی آدھی قیمت میں موجود ہے۔

دفاتر کے اس عمارت میں نہ منتقل ہونے کی وجہ بڑی کمپنیوں کے لیے اس میں جگہ کی کمی نظر آتی ہے اور یہ اس کے اونچی گھماؤ دار طرز تعمیر کے سبب ہے اور ایسے میں انھیں کئی منزلیں درکار ہوں گی جو کہ ذرا پیچیدہ مسئلہ ہے۔

رابرٹسن نے کہا کہ کچھ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں اور بینک اسے پسند نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہرچند کہ برج خلیفہ گلوبل آئیکن ہے اور ایک انتہائی پرکشش اور آسان پتہ ہے لیکن کثیر ملکی کمپنیوں کو اس طرح کی کسی شبیہ کی ضرورت نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں یہ کمپنیاں شان و شوکت کے اظہار سے زیادہ تجارتی سنجیدگی کی جانب زیادہ مائل ہیں۔

اسی بارے میں