روس میں شراب کے اشتہارات پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روس میں گزشتہ دس سال میں بیئر کے استعمال میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے

روس میں شراب کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی روس میں حد سے زیادہ شراب نوشی کے مسئلے پر قابو پانے کی مہم کا حصہ ہے۔

اس پابندی کے بعد ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ، پبلک ٹرانسپورٹ جیسی عوامی جگہوں پر شراب کے اشتہارات نہیں لگائے جا سکیں گے۔

یکم جنوری سے یہ پابندی پرنٹ میڈیا پر بھی عائد ہوگی۔

رشیئن یونین آف الکوہول پروڈیوسرز کے چیئرمین دیمتری دوبروو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پابندی کا قانونی طور پر شراب بنانے والوں پر تو اثر پڑے گا تاہم غیر قانونی طور پر شراب کی خرید و فروخت کرنے والے تاجرین کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

بی بی سی روسی سروس سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت یہ واضح نہیں کہ اس پابندی کو انٹرنیٹ پر کس طرح لاگو کیا جائے گا کیونکہ کمپنیاں روس سے باہر سرورز کے ذریعے بھی اشتہارات لگا سکتیں ہیں۔

تاہم انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف کنزیومر سوسائٹیز کے سربراہ دیمیتری یانن نے اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ضروری قدم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’میں امید کرتا ہوں کہ اس سے فرق پڑے گا کیونکہ روس میں شراب نوشی کا رجحان بہت زیادہ ہے‘۔

روس میں شراب نوشی کی شرح عالمی ادارہِ صحت کی مقررہ حد سے پہلے ہی دوگنی ہے۔

روایتی طور پر روس میں ووڈکا کو پسند کیا جاتا ہے تاہم حالیہ سالوں میں بیئر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس مقبولیت کے پیشِ نظر گزشتہ سال حکام نے بیئر کو بھی دیگر شراب کی اقسام میں ڈال دیا تھا۔