افغان پولیس کمانڈر اور تیرہ اہلکار منحرف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کمانڈر بالا بلک نامی ضلع کے شیون نامی گاؤں میں تعینات تھا

افغانستان کے مغربی صوبے فرح میں ایک پولیس کمانڈر اور تیرہ اہلکار منحرف ہو کر طالبان سے مل گئے ہیں۔

حکام کے مطابق میرواعظ نامی یہ کمانڈر ایک حفاظتی چوکی پر تعینات بیس اہلکاروں کا انچارج تھا اور اس نے اتوار کو منحرف ہونے کا فیصلہ کیا۔

افغان حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ افراد جاتے ہوئے اپنے ساتھ بھاری اسلحہ، ریڈیو اور دو امریکی ساختہ بکتر بند ہمر جیپیں بھی لے گئے ہیں۔

افغانستان کا مغربی حصہ نسبتاً پرسکون ہے تاہم اس علاقے میں فرح سب سے زیادہ غیرمحفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

پولیس کمانڈر میر واعظ بالا بلک نامی ضلع کے شیون نامی گاؤں میں تعینات تھا جسے طالبان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اس علاقے میں افغان سکیورٹی فورسز نے کئی آپریشن کیے ہیں تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان یہاں دوبارہ جمع ہوگئے ہیں۔

افغان پولیس اور خفیہ اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ کمانڈر نے ان سات اہلکاروں کو زہر دے دیا جنہوں نے اس کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان میں پولیس اہلکاروں کے منحرف ہونے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

افغان انٹیلیجنس کے ایک افسر نے کابل میں بی بی سی کے بلال سروری کو بتایا کہ ’میرواعظ اور ان کے ساتھیوں نے ڈھائی برس قبل افغان پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ کافی عرصے سے اس علاقے میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے‘۔<span >

افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’خدشہ ہے کہ منحرف ہونے سے قبل وہ کافی عرصے سے مزاحمت کاروں کو خفیہ اور اہم معلومات فراہم کرتے رہے تھے‘۔

حکام کا کہنا ہے کہ منحرفین جو سامان اپنے ساتھ لے گئے ہیں ان میں راکٹ کی مدد سے چلنے والے بم، بھاری مشین گن، ریڈیو اور دو ہمر جیپوں سمیت پولیس کی گاڑیاں شامل ہیں اور یہ سامان علاقے میں سرگرم طالبان کے لیے ایک اہم کمک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں