امریکہ میں’گن کلچر‘ پھر زیرِ بحث

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آئینی طور پر ہر بالغ شہری کو ہتھیار یا بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے

نیویارک کے ایک اخبار نے کولاراڈو کے شہر آرورا کے سنیما میں پیش آنے والے واقعے پر لکھا کہ اگر ہالی وڈ کی تصوراتی دنیا اور حقیقی دنیا کی خوفناکی آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں تو پھر کولوراڈو جیسے المیے جنم لیتے ہیں۔

کولوراڈو سنیما میں بارہ افراد کے قتل کے واقعے کے بعد امریکہ میں بندوق کلچر پر ایک دفعہ پھر میڈیا سمیت ہر جگہ بحث چھڑ چکی ہے۔

امریکہ میں گن لابی اور گن کنٹرول لابی یا اینٹی گن لابی امریکی سیاست اور اقتدار میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہی ہیں۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ بہت سے ڈیموکریٹ گن کنٹرول کے حامی ہیں جبکہ رپبلکنز کی بہت بڑی تعداد گن لابی کے حق میں ہوتی ہے۔

یہاں امریکی سیاست پر بااثر نیشنل رائفل ایسوسی ایشن بھی ہے اور کئي امریکی شہروں میں قومی گن شو بھی منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے مرد ہوں کہ خواتین جوق در جوق آتے ہیں۔

لیکن ڈیموکریٹس ہوں کہ ریپبلیکنز، تقریباً ڈھائی سو سال قبل آئین میں کی گئی دوسری ترمیم کے تحت امریکی شہریوں کو ملنے والا ایسا حق مانتے ہیں جس کے تحت ہر بالغ امریکی کو اپنے دفاع میں بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔

امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آئینی طور پر ہر بالغ شہری کو ہتھیار یا بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔

اگر آپ کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد ہے، آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کا کوئی پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے تو آپ محض اپنا ڈرائيونگ لائسنس یا ریاستی شناختی دستاویز کسی بھی اسلحے کی دکان پر دکھا کر بندوق خرید سکتے ہیں۔

امریکہ میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں آپ اپنے دفاع میں گولی چلا سکتے ہیں، یا آپ کی ملکیت میں گھس آنے والے کو آپ بلاجھجک گولی مار سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption امریکہ میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں آپ اپنے دفاع میں گولی چلا سکتے ہیں

بہت سے امریکیوں نے اپنے گھروں پر ایسی تختیاں لگا رکھی ہیں جن پر تحریر ہے کہ بغیر اجازت اندر آنے والے کو گولی ماری جا سکتی ہے۔ یا ’وی شوٹ دی ٹریس پاسر‘ یعنی ہم اندر گھس آنے والے کو گولی مار دیتے ہیں۔

کئي ریاستوں میں اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت تو ہے لیکن چھپا کر۔ میرے ایک اینتھروپولوجسٹ دوست کے مطابق ’امریکی ہتھیاروں سے عشق کرتے ہیں‘ اور یہی بات آپ کو کئی امریکی فخر سے بتائیں گے۔

یہ کہنا مبالغہ آرائي نہ ہوگی کہ امریکہ دنیا میں بندوق کا کلچر رکھنے والے ملکوں میں سب سے آگے ہے اور اس کی تاریخ اور قومی زندگی میں بندوق ایک جزو لاینفک رہا ہے۔

یہ صرف پاکستان کے قبائلی علقوں کے لیے نہیں کہا جاتا کہ بچے کو چھٹی سالگرہ پر رائفل تحفے میں دی جاتی ہے بلکہ آپ کو ایسے کئي امریکی ملیں گے جو آپ کو بتائيں گے کہ ان کے دادا نے انہیں اپنی رائفل اس وقت تحفے میں دی جب وہ پانچ سال کے تھے۔

امریکن رائفل مین کا ایک ہیرو والا ’ماچُو مین‘ تصور امریکی زندگی اور لوک گیتوں میں بھی موجود ہے۔

امریکیوں کے لیے بندوق ان کا زیور اور شوق شکار ہوتا ہے۔ سندھی ڈاکوؤں کی کلاشنکوفوں اور بندوقوں کے بٹوں اور گولیوں کی تھیلیوں پر کشیدہ کاری ، اور پختونوں کی بندوق پر نقش و نگار کی طرح امریکیوں کی رائفلز اور بندوقوں پر بھی نقش و نگار دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

بندوق سے امریکی قربت اتنی ہے کہ مشہور امریکی افسانہ نگار ارنسٹ ہیمنگوے کی بندوقیں بھی خود ان جتنی ہی مشہور ہیں اور ان پر ایک کتاب ’ہیمنگنویز گنز" بھی شایع ہوئی ہے، ۔

حال ہی میں برطانوی اخبار گارڈین نے دنیا میں آتشیں اسلحہ رکھنے والے ملکوں کا ایک نقشہ شائع کیا ہے جس میں امریکہ کو اول نمبر پر بتایا گیا ہے۔ اس نقشے میں میں بندوقیں رکھنے والے ملکوں میں سب سے زیادہ بندوقیں امریکیوں کی بتائی گئی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اٹھاسی اعشاریہ آٹھ فی صد افراد بندوق سے مارے جانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔

اسی بارے میں