شام: حلب میں جنگی طیاروں کی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں جنگی طیاروں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

حلب کے نواح میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق جنگی طیاروں نے شہر کے مشرقی حصے پر بمباری کی ہے۔

نامہ نگار ایئن پیل کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ حلب میں حکومتی افواج نے جنگی طیارے استعمال کیے ہیں اور یہ شہر میں جاری لڑائی میں ایک اہم قدم ہے۔

اس سے قبل فوجی کارروائی میں جنگی ہیلی کاپٹروں کے استعمال کی اطلاعات بھی ملی تھیں۔

شامی صدر بشارالاسد کے مخالف باغیوں نے حلب میں موجود شامی افواج پر اختتامِ ہفتہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کا مقصد شہر کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ اس حملے کے دوران شہر سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

حکومت مخالف ذرائع کے مطابق منگل کو شام کے مختلف مقامات پر جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے نو حلب میں جیل میں ہونے والی بغاوت کے دوران مارے گئے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومت نے دارالحکومت دمشق کے ان علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے جو گزشتہ ہفتے باغیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر دمشق کے جنوبی ضلع کے نشر کیے جانے والے مناظر میں ہلاک کیے گئے’دہشت گردوں‘ کی ویڈیو دکھائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو میں شامی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو گھر گھر جا کر باغی جنگجوؤں کو تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تازہ جھڑپیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب عالمی برادری کی جانب سے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پیر کو شامی حکومت کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیار ملک کے اندر استعمال نہیں کیے جائیں گے تاہم کسی بیرونی حملے کے جواب میں ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیر کو عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے شامی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں

اس پر امریکی صدر باراک اوباما نے شام کے صدر بشار الاسد کو تنبیہ کی ہے کہ اگر ان کی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ان کو اس کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حلب اور حمص کی جیلوں میں قیدیوں نے بغاوت کر دی ہے اور جیل توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کارکنوں کے مطابق سکیورٹی فورسز حمص کی جیل میں کارروائی کرنے کی دھمکیاں دی رہی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ حلب میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے قیدیوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔

جیل میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، اطلاعات کے مطابق جیل میں غیر مسلح پولیس اہلکار منحرف ہو گئے ہیں اور قیدیوں نے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔

سرکاری حکام نے اس سے پہلے منحرف ہونے کے واقعے کی تردید کی تھی۔

حزب اختلاف کے ایک مقامی گروپ لوکل کوارڈینشن کمیٹی ایل سی سی کے مطابق حمص جیل میں’ انسانی صورتحال سنگین شکل‘ اختیار کر چکی ہے۔ اس گروپ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ قیدیوں کے قتل عام کو روکنے میں مدد کی جائے۔

غیر سرکاری تنظیم کے مطابق حمص کی جیل میں سنیچر کو دو قیدی ہلاک ہو گئے تھے اور حکومت نے وہاں دو ججوں کو بھیجا ہے تاکہ اختتام ہفتہ پر شروع ہونے والی بغاوت کے اسباب کی تفتیش کی جا سکے۔

خیال رہے کہ شام میں غیر ملکی صحافیوں کو سخت پابندیوں کو سامنا ہے اس لیے ان واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دمشق کے زیادہ تر علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے، گزشتہ ہفتے ان علاقوں پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں