امریکہ دہشتگردی کوجائز قرار دے رہا ہے: روس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

روس کے وزیر خارجہ سرگی لاوروف نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں حکومت کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے مغربی ملکوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان ملکوں نے شام میں ان خود کش حملوں کی مذمت نہیں کی جن میں شام کی حکومت کے وزراء اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شام میں اٹھارہ جولائی کو کابینہ کے وزراء کے ایک اجلاس پر خود کش حملوں میں صدر بشار الاسد کے برادِ نسبتی اور وزیر دفاع ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کے اس بیان کا جس میں انھوں نے کہا کہ تھا کہ شام کی حکومت کے خلاف اس طرح کہ حملہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے، روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دہشتگردی کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔

دریں اثناء لندن میں قائم ایک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ شام میں بیرونی مداخلت کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ باوجود اس امر کے مغربی ممالک فوجی مداخلت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رائل یونائٹڈ سروس انسٹیٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مغربی دارالحکومتوں، ترکی اور اردن میں فوجی مداخلت کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونی حکومتوں کو یہ اندیشہ ہے بیرونی فوجی مداخلت کی صورت میں شام کی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں بھرپور فوجی حملے کے بجائے محدود کارروائی کا زیادہ امکان ہے جس کا مقصد شام فوج سے بچانے یا کیمیائی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے اور انھیں تباہ کرنا ہو سکتا ہے۔