’پاکستان کے لیے جاسوسی، سیاسی رہنما گرفتار‘

Image caption حسین یاسا نے رہائی کے بعد تاحال میڈیا کا سامنا کرنے سے گریزکیا ہے

افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اپوزیشن اتحاد نیشنل فرنٹ کے ایک راہنما ڈاکٹر حسین علی یاسا کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے اٹھائیس گھنٹے بعد رہا کر دیا ہے۔

افغان انٹیلیجنس’این ڈی ایس‘ کے حکام نے افغان نیوز ایجنسی پژواک کو بتایا کہ ان پر ایک پڑوسی ملک کے لیے جاسوسی کا الزام تھا۔

انٹیلیجنس حکام کا کہنا کہ انہیں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ مشکوک روابط کے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی نیوز کے احمد ولی مجیب کے مطابق افغان حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حسین علی یاسا پر کابل میں موجود دیگر غیر ملکی سفارت خانوں کو خفیہ معلومات فراہم کا الزام بھی ہے۔

افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے ترجمان لطف اللہ مشعل کے مطابق حسین یاسا کا پاکستانی سفارت خانے میں آنا جانا بہت زیادہ تھا اور ان کی سرگرمیاں بھی بہت مشکوک تھیں۔انہیں تحقیقات کے لیے گرفتار کیا گیا تھا اور اب وہ ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان کے مطابق حسین یاسا نے تفتیش کے دوران بتایا کہ ان کے پاس پاکستانی شہریت ہے۔

حسین یاسا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔ان کا سیاسی تعلق احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود کی پارٹی افغان نیشنل فرنٹ سے ہے۔

احمد ضیاء مسعود کی قیادت میں قائم ہونے والی جماعت افغان نیشنل فرنٹ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے جس میں جنرل عبدالرشید دوستم، استاد محمد محقق اور سابق انٹیلی جنس چیف امر اللہ صالح کی جماعت شامل ہے۔

اس اتحاد میں شامل افراد ماضی میں پاکستان مخالف تصور کیے جاتے تھے لیکن پاکستانی وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے گزشتہ ہفتے کابل کے دورے کے دوران ان تمام راہنماوں سے ملاقات کی تھی۔

حسین علی یاسا افغان میڈیا اینڈ رسرچ نامی ادارے کے چیئرمین بھی ہیں۔

اس ادارے کے تحت انگریزی میں’آوٹ لوک‘ پشتو اور دری میں’افغانستان‘ نامی اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔

افغان اپوزیشن کے ایک سینیئر راہنما محمد محقق کا کہنا ہے کہ حسین یاسا کی گرفتاری سیاسی بنیادوں پر عمل میں آئی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ان کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے قانون میں تبدیلی کے لیے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔

اپوزشن اتحاد جماعت نیشنل فرنٹ نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس ادارے نے ان کے ایک اہم راہنما کو حبسِ بے جا میں رکھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایس کو اپنے اس عمل پر معافی مانگنی ہوگی۔

این ڈی ایس کے معاون ترجمان شفیق اللہ طاہری کا کہنا ہے کہ حسین یاسا کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو انہیں دوبارہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حسین یاسا کی رہائی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

حسین یاسا نے رہائی کے بعد تاحال میڈیا کا سامنا کرنے سے گریزکیا ہے۔

اسی بارے میں