شامی فوج کی حلب میں دوبارہ کارروائی

شام تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حلب شہر سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے

امریکہ کی جانب سے اس خدشے کے اظہار کے بعد کہ شامی حکومت حلب میں قتلِ عام کی نئی لہر کی تیاری کر رہی ہے فوج نے باغیوں کے اڈوں پر ہیلی کاپٹر سے گولی چلائی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے حلب کے جنوبی مغربی علاقوں میں شامی فوج نے ہیلی کوپٹر سے گولیاں چلائی ہیں۔

ادھر ادلیب صوبے فوجی ٹیکنوں کا ایک قافلہ حلب پہنچا ہے جس پر باغیوں نے حملہ بھی کیا۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ ناوے پلے نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں شہریوں کو اس لڑائی سے دور رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں ہیں جن میں فریقین پر موارائے عدالت ہلاکتوں اور سنائپرز کی جانب سے شہریوں کو نسانہ بنائے جانے کی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شامی حکومت ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر حلب میں قتلِ عام کی نئی لہر کی تیاری کر رہی ہے۔

وہیں شام میں حکومت حامی اخبار الوطن نے متنبہ کیا ہے کہ ’حلب میں اب تک کی سب سے بڑی جنگ شروع ہونے والی ہے۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے بتایا کہ ٹینکوں، ہیلی کاپٹر گن شپوں، اور جنگی جہازوں کی تعیناتی سے لگتا ہے کہ ایک بڑا حملہ ہونے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اس تنازع کی شدت میں بڑا اضافہ ہے۔

ادھر دوسری جانب اطلاعات کے مطابق حلب کے شہر میں باغیوں نے حملے کی تیاری میں ہتھیار اور طبی امداد کا سامان جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔

وکٹوریا نولینڈ نے کہا کہ ہماری دعائیں حلب کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور یہ گرتی ہوئی حکومت کی کنٹرول سنبھالنے کی ایک اور کوشش ہے‘۔

تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ امریکہ اس لڑائی میں مداخلت نہیں کرئے گا اور سولہ ماہ سے صدر بشار الاشد کی حکومت گرانے کی کوشش کرنے والے باغیوں کو صرف ’غیر مہلق‘ اشیاء کی امداد کی جائے گی۔

’ہم آگ (یعنی لڑائی) میں مزید ایندھن ڈالنے میں تقین نہیں رکھتے۔۔۔ یہاں بیرونی مدد کے لیے عوامی سطح سے وہ مانگ نہیں دیکھی گئی جو دوسرے ممالک میں تھی‘۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ باغیوں کو مواصلاتی آلات اور طبی امداد کا سامان دے رہے ہیں۔

ادھر دمشق میں اقوام متحدہ کے شام میں امن بندی کے مشن کے سربراہ ہاروو لادسوس کا کہنا تھا کہ کوفی عنان کے مشترکہ امن منصوبے کے علاوہ تنازع کے حل کے لیے ان کے پاس کوئی اور پلان نہیں۔

امن مشن میں اقوام متحدہ کے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شامیوں کا شامیوں کے ہاتھیوں مارے جانے کو رُکنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس لوگ زیادہ تھے اور ہم کچھ خاص کر نہیں سکتے تھے۔

حلب شام کا تجارت کے لحاظ سے اہم ترین شہر ہے اور اس کی آبادی بیس لاکھ کے قریب ہے۔

اسی بارے میں