شام کے دو سفیر منحرف، حلب میں شدید لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شامی سکیورٹی فورسز باغیوں کو شہر پر قبضہ کرنے سے روک رہی ہیں

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ شام کے مزید دو سفارت کار منحرف ہو گئے ہیں جبکہ شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

منحرف ہونے والے شامی سفارت کاروں میں سے ایک متحدہ عرب امارات اور دوسرے قبرص میں تعینات تھے اور اطلاعات کے مطابق دونوں قطر روانہ ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ’ہم تصدیق کر سکتے کہ متحدہ عرب امارات اور قبرص میں شام کے دو سفیر منحرف ہو گئے ہیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے امریکی صدر کے طیارے’ ائر فورس ون‘ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ صدر بشارالاسد کے قریبی حلقے کے اعلیٰ اہلکار اب حکومت کو چھوڑ رہے ہیں کیونکہ شامی صدر اپنی لوگوں کے خلاف نفرت آمیز اقدامات اٹھا رہے ہیں، اور اہلکاروں کے مستعفی ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ شامی صدر کے اقتدار کے گنے چنے دن رہ گئے ہیں۔‘

منحرف ہونے والے سفارت کاروں میں لائمہ حریری قبرص میں جبکہ ان کے شوہر عبدل لطیف متحدہ عرب امارات میں تعینات تھے۔

اطلاعات کے مطابق اومان میں شام کے سفارت خانے میں تعینات ملڑی اتاشی بھی منحرف ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء حلب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل کے مطابق شہر اس وقت لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے جسے نہ تو باغی کھونا چاہتے ہیں اور نہ ہی حکومت ایسا برداشت کر سکتی ہے۔ شامی سکیورٹی فورسز باغیوں کو شہر پر قبضہ کرنے سے روک رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب بھی سکیورٹی فورسز بھاری ہتھیاروں سے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں

انہوں نے کہا کہ شہر کے شورش زدہ علاقوں پر سکیورٹی فورسز توپخانے سے گولہ باری، مارٹرز اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہی ہے اور مزید فوجی دستے بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

شہر میں حزب اختلاف کے ایک کارکن محمد سعید نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ شامی سکیورٹی فورسز کی جانب سے شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کیے جانے کی توقع ہے۔

فرانسیسی اخبار لوسیگاہو کے نامہ نگار ایڈرین کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ حلب سے نکل گئے ہیں، دوپہر کے وقت جنگی جہاز شہر پر چکر لگاتے رہے اور باغی جنگجووں اپنے پاس موجود ہتھیاروں سے ان پر فائرنگ کرتے رہے۔

واضح رہے کہ منگل کو جنگی طیاروں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔

اس سے پہلے روس کے وزیر خارجہ سرگی لاوروف نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں حکومت کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہا ہے۔

اسی بارے میں