نیٹو سپلائی کی غیر اعلانیہ بندش

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نیٹو گاڑیوں پر ہونے والے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان کی ترسیل غیر اعلانیہ طور پر معطل کردی گئی ہے جبکہ ان گاڑیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خیبر پختون خوا حکومت اور مرکز میں اختلافات کی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پاک افغان شاہراہ پر نیٹو گاڑیوں کی آمد و رفت پچھلے تین دنوں سے معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو گاڑیوں پر حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کرکے مختلف مقامات پر سکیورٹی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمرود کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے سرچ آپریشن بھی کیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کے ایک مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ نیٹو گاڑیوں پر مزید حملوں کے خطرے کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے قبائلی علاقے کی حدود سے اتحادی افواج کو سامان لے جانے والی تمام گاڑیوں کو باہر نکال کر پشاور کی طرف بھیج دیا گیا ہے ۔

منگل کو خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں مسلح موٹرسائیکل سواروں نے اتحادی افواج کو سامان رسد لے جانے والے تین گاڑیوں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی تھی جس میں کنڈیکٹر ہلاک اور ڈرائیور زخمی ہوا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے قبول کرلی تھی اور کہا تھا کہ اگر نیٹو سپلائی جاری رہی تو وہ ان پر مزید حملے کرتے رہیں گے۔

ادھر دوسری طرف نیٹو گاڑیوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے خیبر پختون خوا حکومت اور مرکز میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو گاڑیاں تین صوبوں سے گزر کر فاٹا میں داخل ہوتی ہیں لہذا ان کی تحفظ کسی ایک صوبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام صوبوں اور مرکز نے مل کر اس کےلیے ایک منصوبہ بندی کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت نے وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں تجاویز بھیجی ہیں لیکن ابھی تک وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو تجاویز ان کی طرف سے دی گئی ہے اس میں سکیورٹی کا فول پروف انتظام موجود ہے اور امید ہے کہ اس سے گاڑیوں پر حملوں میں کمی بھی آئےگی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا تو اس دوران اگر نیٹو گاڑیوں پر کوئی حملہ کرتا ہے تو اسکی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوگی۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے امریکہ کے ساتھ معماملات طے ہونے کے بعد حکومت نے نیٹو سپلائی کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ لیکن دوسری طرف ملکی کی سیاسی، مزہبی اور شدت پسند تنظیموں کی طرف سے اتحادی افواج کو سپلائی بحالی کی مخالفت کی وجہ سے افغانستان کےلیے نیٹو گاڑیوں کی آزادانہ آمد و رفت شروع نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں