روس کی بیرونِ ملک فوجی اڈوں کے قیام کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی وزارتِ دفاع نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن کے مطابق روس انیس سو اکانوے میں سویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ بیرونِ ملک اپنی بحری فوج کا اڈہ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اس سے قبل ایک خبر رساں ادارے نے روسی بحریہ کے سربراہ کے حوالے کہا تھا کہ اس اڈے کے لیے کیوبا، ویتنام اور سیشلیز ممکنہ جگہیں ہو سکتیں ہیں۔

لیکن اب وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ بری فوج کے سربراہ وائس ایڈمرل وکٹر شیرکوو نے ایسی بات کبھی نہیں کہی۔

آر آئی اے نووستی نامی خبر رساں ادارے نے وائس ایڈمرل شیرکوو کے حوالے سے لکھا تھا ’ یہ سچ ہے کہ ہم روسی سلطنت سے باہر نیوی کے اڈے قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘

تاہم اب روسی وزارتِ دفاع نے اس بات کر تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائس ایڈمرل شیرکوو نے ایسی کوئی بات نہیں کہی اور نہ ہی انٹرویو کے دوران اس موضوع پر بات کی گئی۔

روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی تعلقات سے متعلق معاملات بحریہ کے سربراہ کی ذمہ داریوں میں نہیں آتے۔ ‘

وزارت کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بحریہ کے سربراہ سے منسوب یہ بیان خبر لکھنے والے کے خیالات ہیں جن کی مدد سے اس نے چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور سنسنی پھیلانے کی کوشش کی۔ اور یہ سب ان کی پیشہ وارانہ اصول خلاف ہے۔

انیس سو نوے میں پیسوں کی کمی کے باعث بیرون ملک قائم کئی روسی فوجی اڈے بند کر دیے گئے تھے۔

روس نے ویتنام میں اپنا فوجی اڈا دو ہزار دو میں بند کیا اور اِس وقت اس کے یوکرین اور شام میں اڈے قائم ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے روس کی فوجی طاقت دوبارہ بحال کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

حالیہ برسوں میں روس نے بیرونِ ملک اپنی بحریہ کے آپریشنز میں توسیع کی ہے جن میں صومالیہ کے قریب بحری قزاقی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کارروائی بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں