حکومت مخالف بلاگر پر مقدمہ

حکومت مخالف بلاگر الیکسئی نوالنی تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption الیکسئی نوالنیآج وفاقی تفتیش ادارے کے سامنے پیش ہوئے

روس میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک معروف بلاگر کے خلاف خرد برد کا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

حکومت مخالف بلاگر الیکسئی نوالنی کے خلاف ماسکو میں تفتیش کاروں نے لکڑی کے ایک بڑے سودے میں خرد برد کا الزام لگایا ہے۔ الیکسئی نوالنی پیشے سے وکیل ہیں اور تقریباً تین سال پہلے وہ کیراف کے علاقے میں ہونے والے اس سودے میں غیر اعلانیہ مشیر تھے۔

اس کیس کی تفتیش پہلے ہو چکی ہے اور مقامی تفتیش کاروں اس کو ختم کر چکے تھے۔

مسٹر نوالنی کے مُلک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اگر ان کو اس مقمدمے میں مجرم پایا گیا تو ان کو پانچ سے دس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

الیکسئی نوالنی کہتے ہیں کہ حکام نے یہ مقدمہ محض ان کو بدنام کرنے کے لیےتیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کیس ’عجیب اور احمقانہ‘ ہے۔

نوالنی کا کہنا ہے کہ وہ منگل کو جب اس کیس کے سلسلے روس کے وفاقی تفتیشی ادارے (ایس کے) کے سامنے پیش ہوئے تو انہیں پتہ لگا کہ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بتائے گئے الزمامات سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کیراف میں دو کمپنیوں کے ساتھ مل کر کیراف کی حکومت کو سولہ ملین روبل (تقریباً پانچ ہزار ڈالر) کا نقصان پہنچایا تھا۔ وہ اُس وقت کیراف کے گورنر کے مشیر تھے۔

وقافی تفتیشی ادارے کے اہلکار ولادی مئیر مارکن نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلے مسٹر نوالنی پر صرف ملکیت کو نقصان پہنچانے الزام لگایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے زیادہ سنگین الزام لگانے کا فیصلہ ثبوت کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔

مسٹر نوالنی کے خلاف اس کیس کی خبر پر ان کے حامیوں نے احتجاج کیا۔ منگل کو ان کے کئی حامیوں نے وفاقی تفتیشی ادارے کے دفاتر کے باہر مظاہرہ کیا جہاں مسٹر نوالنی کی پیشی تھی۔

سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلڈت نے ٹوئٹر پر اس واقعہ پر اپنے رد عمل میں لکھا ’ہمیں حکومت مخالف اور کرپشن مخالف اس سرگرم کارکن کو خاموش کرنے کی روسی کوشش پر تشویش ہونی چاہیے۔‘

مسٹر نوالنی حالیہ متنازع انتخابات کے بعد مظاہروں میں بھی سر گرم رہے۔ مظاہرین نے انتخابات اس وقت کے وزیر اعظم ولادیمئر پیوتن کے حلیفوں کی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف ماسکو میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے۔ یوتن کے مارچ میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے حکومت مخالف افراد کے خلاف مقدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں میں الیکسئی نوالنی نے وفاقی تفتیشی ادارے کے سربراہ ایلیگّزانڈر براسٹیکن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منگل کو الیکسئی نوالنی نے کہا کہ وہ اس مقدمے کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں