’لڑائی قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی‘

حلب کی تصاویر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب میں لڑائی جاری ہے

شام کے صدر بشارالاسد کا کہنا ہے حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی ہی شامی قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

یومِ افواج پر جاری کیے گئے تحریری بیان میں صدر اسد نے کہا ’مسلح دہشت گرد گروہوں‘ کا مقابلہ کرنے والے فوجی قابلِ تعریف ہیں۔

شام میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران دارالحکومت دمشق اور ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کی گلیوں میں فوج اور باغیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بدھ کو دارالحکومت دمشق کے پرانے شہر کے عیسائی اکثریتی علاقوں میں فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک فوجی کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔

انسانی حقوق کی شامی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکار باب ٹوما اور باب شارقی کے باہر جھڑپ میں مارا گیا۔

دمشق کے مرکز میں واقع بغداد سٹریٹ سے بھی گولہ باری اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

دریں اثناء انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جولائی میں شام کے شہر حلب میں حکومتی افواج نے انسانیت کے خلاف جرائم انجام دیے ہیں۔

تنظيم کی جانب سے مئی میں کی گئی تحقیقی رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی جنگی عدالت کو منتقل کیا جائے اور شام کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے۔

تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی افواج اور حکومت کے حامی جنگجوؤں نے پرامن احتجاج کرنے والوں، گلی چوراہوں پر کھڑے راہ گیروں اور بچوں پر گولیاں چلائی ہیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ طبی ٹیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور جن افراد کو گرفتار کیا گيا انہیں سزائیں دی گئیں۔

واضح رہے کہ منگل کو حلب پر حکومتی افواج نے حملے کے چوتھے روز ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کارروائی کی تھی۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومتی افواج نے حلب میں دہشت گرد گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا جبکہ شام کے دوسرے شہر حمص میں بھی حکومت کی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا۔

حلب میں جاری شدید لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ افراد پہلے ہی شہر چھوڑ چکے ہیں۔

دریں اثناء امریکہ اور ترکی نے شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششیں شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان میں صدر بشارالاسد کی روانگی بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں