قدامت پسند یہودی فوج میں جبری بھرتی کے مخالف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قدامت پسند یہودی رہنما میر پوروش نے کہا ہے کہ اگر اُن کے لوگوں کی فوج میں جبری بھرتی کی کوشش کی گئی تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

اسرائیل میں انتہائی قدامت پسند یہودی طلباء کی فوج میں لازمی بھرتی کے لئے وزیر دفاع ایہود باراک نے فوج کو تیاری کے لئے ایک مہینے کی مہلت دی ہے۔

ایہود باراک نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ انیس سو اننچاس کے قانون پر عمل درآمد کے بارے میں ایک ماہ کے اندر ایک قابلِ عمل منصوبہ پیش کرے۔

اسرائیلی قانون کے تحت اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے ہر اسرائیلی شہری کے لئے لازمی ہے کہ وہ ملک کی فوج میں بھرتی ہو۔ صرف وزارتِ دفاع کسی شہری کو فوج میں بھرتی سے مستثنیٰ قرار دے سکتی ہے۔ یہ قانون انیس سو اننچاس میں بنا تھا اور اس میں انیس سو چھیاسی میں ترمیم کی گئی تھی۔

ملک کی سپریم کورٹ نے فروری میں ٹل نامی اِس قانون کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جولائی تک نیا قانون بنایا جائے لیکن پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں میں اِس معاملے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔

سیکولر اسرائیلوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون غیر منصفانہ ہے۔

ایہود باراک کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی-ڈی-ایف) سے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے اور قومی خدمات کے بوجھ کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے اصول کو سامنے رکھ کر ایک قابل عمل منصوبہ بنایا جائے۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ قدامت پسند یہودیوں کی فوج میں لازمی طور پر بھرتی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ قدامت پسند یہودیوں کی فوج میں لازمی بھرتی سے استثنیٰ کا قانون ختم ہونے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا ہے اور فوج مزید بھرتیاں کرے گی۔

اسرائیلی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اصرار کیا کہ ’ کوئی خلاء پیدا نہیں ہوا۔ برابری کے بنیاد پر خدمات انجام دینے کے لئے نیا قانون موجود ہے جس کے مطابق فوج یہ فیصلہ کرے گی کہ کب، کس کو اور کتنے لوگ بھرتی کرنے ہیں۔ میں ان کی حمایت کروں گا‘۔

قدامت پسند یہودی رہنما میر پوروش نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسیٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے لوگوں کو جبری طور پر فوج میں بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ فوج خود بھی نہیں چاہے گی کہ مذہبی لوگ ان کے پاس آئیں اور فوج بھرتی کے لئے نہ پہلے تیار تھی اور نہ اب تیار ہے۔

پچھلے مہینے کادیمہ پارٹی نے بینجمن نتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ٹل قانون کی جگہ دوسرا قانون لانےکی تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور اتحادی حکومت سے نکل گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق بینجمن نتن یاہو نے کہا تھا کہ پچاس فیصد کٹر یہودیوں کو جن کی عمریں اٹھارہ سے تئیس سال کے درمیان ہیں فوج میں بھرتی کیا جائے گا اور پچاس فیصد کو جن کی عمریں تئیس سے چھبیس سال کے درمیان ہیں غیر فوجی خدمات کے لئے بھرتی کیا جائے گا۔

حکومتی اتحاد میں موجود مذہبی جماعتوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر قدامت پسند یہودیوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے والا قانون ختم کیا گیا تو وہ حکومت سے نکل جائیں گی۔

اسی بارے میں