روسی صدر پیوتن برطانیہ کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیوتن نے آخری بار جولائی سنہ دو ہزار پانچ میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا

روس کے صدر ویلادیمر پیوتن سات سال بعد برطانیہ کے پہلے دورے کے موقع پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ مذاکرت کریں گے۔

جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنما شام کے بحران کے علاوہ دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔

ان مذاکرات کے بعد دونوں رہنما لندن اولمپکس میں جاری جوڈو مقابلے دیکھنے جائیں گے۔

روسی صدر ویلادیمر پیوتن نے آخری بار جولائی سنہ دو ہزار پانچ میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔

روسی صدر کا جمعرات سے شروع ہونے والا دورہ سرکاری دورہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمرپیوتن اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب دو ہفتے قبل روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں لڑائی بند کروانے کے لیے پیش کی جانے والی قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔

صدر ولادیمرپیوتن کے ایک مشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ روس کی شام میں دوسرے ممالک کی نسبت ’ کوئی خاص دلچسپی‘ نہیں ہے۔

سرگئی مارکو نے ریڈیو فور کو بتایا کہ روس کو یقین ہے کہ عالمی برادری کی شام کی حکومت مخالف قوتوں کی حمایت غیر ذمہ داری پر مبنی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے کچھ جنگجو القاعدہ اور اسلامی شدت پسندوں سے بہت قریب ہیں۔

سرگئی مارکو نے کہا کہ ’روس مغرب کے خلاف نہیں تاہم وہ مغرب کی شام سے متعلق نا واقف اور غیر منطقی پالیسی کا مخالف ہے۔‘

یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سنہ دو ہزار گیارہ میں ویلادیمر پیوتن کے ساتھ ماسکو میں مزاکرات کیے تھے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کی امدادی کوآرڈینیٹر برونس آموس نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں محفوظ زون کی عدم موجودگی کے باعث لڑائی میں زخمی ہونے والے شہریوں کی مدد کے لیے کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے جنگ بندی کی ضرورت ہے ۔

اسی بارے میں