شام:جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل اسمبلی کی یہ قراداد منظوری کے بعد پابند کرنے والی نہیں ہو گی لیکن اس کا مقصد سلامتی کاؤنسل پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی قدم اٹھائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے شام میں تشدد روکنے میں ناکامی پر سلامتی کونسل کی مذمت میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں ایک سو تینتیس اور مخالفت میں بارہ ووٹ آئے جبکہ اکتیس ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اس قرارداد کی قانونی حیثیت سلامتی کونسل کی قرارداد کی طرح پابند کرنے والی نہیں۔ تاہم اس میں شامی حکومت کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ شامی حکومت کی جانب سے سویلین علاقوں سے افوج کے انخلاء میں ناکامی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

یہ قرارداد شام میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے مستعفی ہونے کے بعد پیش کی گئی۔

اس قرارداد کے لیے زیادہ ووٹوں کے حصول کی خاطر اس میں سے صدر بشارالاصد کے صدر کے عہدے سے سبکدوشی کے مطالبے کو نکال دیا گیا تھا۔

ادھر اس قرارداد پر رائے شماری سے قبل شام میں تشدد کے واقعات کی نئی لہر دیکھی گئی۔ شامی فوج حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کر رہی ہے جبکہ حما اور دارالحکومت دمشق میں بھی خونریزی ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق شام کے مختلف شہروں میں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں جمعرات کو ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے جبکہ حکومت مخالف تحریک کے سترہ ماہ کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد بیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔

جنرل اسمبلی میں قرارداد اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے مستعفی ہونے کے بعد پیش کی جا رہی ہے جن کا شام کے لیے امن منصوبہ ملک میں خون خرابہ روکنے میں ناکام رہا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کا مقصد سلامتی کونسل کو کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ماضی میں روس اور چین اقوام متحدہ کی جانب سے شام پر پابندیاں عائد کرنے کی تمام کوششیں روکتے رہے ہیں۔

جنیوا میں جمعرات کو نیوز کانفرنس میں اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کوفی عنان نے بتایا تھا کہ شام میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے ان کا کام مشکل کر دیا تھا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’مسلسل ہدف بنا کر تنقید کا نشانہ بنانے‘ کے عمل پر بھی شدید تنقید کی جس نے کسی قسم کے اقدام پر اتفاق رائے کو ناممکن بنا دیا۔

شامی حکومت نے کوفی عنان کے استعفیٰ پر دکھ کا اظہار کیا جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ اب شام کے معاملے کا پر امن سیاسی حل تلاش کرنے کا عمل ناکام ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے والی فوج کے سربراہ ہاروی لڈسوس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین نے حلب میں ’بہت نمایاں پیمانے پر فوجی ساز و سامان جمع ہوتا دیکھا ہے جہاں ہمیں ایسے امکانات نظر آتے ہیں کہ فیصلہ کن جنگ ابھی شروع ہونی ہے‘۔

باغیوں کی فری سیرین آرمی کی جانب سے حلب شہر کے پچاس فیصد حصے پر قبضہ کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں جن کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران حلب میں حکومتی اور فری سیرین آرمی کے درمیان شہر پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

ایک عرب نمائندے نے ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس قراداد کا مقصد اسد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ممالک اس کی حمایت کریں جس کی وجہ سے اس میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر گیرارد ارود نے کہا کہ یہ قرارداد روس اور چین کو دکھائے گی کہ وہ ایک ’چھوٹی اقلیت‘ ہیں۔ واضح رہے کہ روس اور چین نے اس معاملے پر تین قراردادوں کو ویٹو کیا ہے کیونکہ ان کے مطابق ایسا کوئی اقدام باہر سے حکومت کی زبردستی تبدیلی کے برابر ہوگا۔

ایران نے جمعہ کو کوفی عنان کے استعفی کے لیے ’مداخلت کرنے والے ممالک‘ کو مورد الزام ٹہرایا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا کہ یہ حکومتیں ’کوفی عنان کی شام کی حکومت کو اسلحہ کی ترسیل کو روکنے اور دہشت گردی کو روکنے کی کوششوں سے مطمئن نہیں تھیں‘۔

انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن تہران نے ماضی میں سعودی عرب، قطر اور ترکی کو شامی باغیوں کو امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ساز باز کے ساتھ اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

اسی دوران برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ان کا ملک آنے والے دنوں میں شامی باغیوں کو مزید ’عملی لیکن غیر نقصان دہ‘ مدد بھجوائے گا۔

اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایک خفیہ حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے شامی باغیوں کی مدد کی اجازت دی گئی ہے۔

کوفی عنان کا چھ نکاتی منصوبہ شام میں لڑائی کو بند کروانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ لیکن کبھی بھی جانبین نے اس کی پاسداری نہیں کی جس کی وجہ سے تشدد مسلسل بڑھتا رہا۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون عرب لیگ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ کوفی عنان کا جانشین تلاش کیا جا سکے جو کہ ’امن قائم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنے میں بہت اہم ہے‘۔

اسی بارے میں