کابل: وزراء کو برطرف کرنے کے حق میں ووٹ

Image caption ماہرین کے مطابق دو اہم وزراء پر عدم اعتماد سے صدر کرزئی کو شدید دھچکا پہنچے گا

افغانستان میں پارلیمان نے دو سینیئر وزراء کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان کے وزیر دفاع اور داخلہ پر پاکستان کے علاقے سے افغانستان پر بمباری کو روکنے اور سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی پر تنقید کی گئی۔

سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی کے نتیجے میں کئی اعلیٰ افسران مارے جا چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزراء پر عدم اعتماد افغان صدر حامد کرزئی کے لیے شدید دھچکا ہے۔

صدر کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اتوار کو وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی اور وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے مستقل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عدم اعتماد کی تحریک منظور کیے جانے کے باوجود صدر کرزئی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان وزراء کو ایک ماہ تک ان کے عہدے پر برقرار رکھ سکتے ہیں جبکہ ماضی میں ایسے وزراء کو کئی ماہ تک ان کے عہدوں پر برقرار رکھا گیا۔

ووٹنگ سے پہلے وزیرِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ’انہوں نے سرحد پار سے بمباری پر فوری ردعمل کے طور پر سرحد پر نہ صرف مزید فوجی بھیجے بلکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپیں بھی تعینات کیں۔‘

تاہم پارلیمان میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بہّتر کے مقابلے میں ایک سو چھالیس ووٹوں سے منظور ہوئی۔

اس کے علاوہ وزیر داخلہ کے خلاف علیحدہ سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد نوے کے مقابلے میں ایک سو چھبیس ووٹوں سے منظور کی گئی۔

کابل میں بی بی سی نیوز کے نامہ نگار علیم مقبول کے مطابق بظاہر بین الاقوامی برادری کو ایک مشکل وقت میں دو اہم رہنماؤں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وہ سال دو ہزار چودہ کے آخر تک ملک سے نکل جائیں گی۔

اسی بارے میں