دمشق اور حلب میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات

دمشق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ نے شامی حکومت کی جانب سے تشدد کے لیے حکومت کی تنقید کی ہے

شام کے دارالحکومت دمشق اور حلب میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر فوج کی جانب سے بم حملے کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حکومتی افواج کی جانب سے بم حملے کیے گئے ہیں اور کئی اضلاع میں فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تشدد کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے شام میں تشدد روکنے میں ناکامی پر سلامتی کونسل کی مذمت میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے شامی حکومت کی جانب سے تشدد کے استمعال پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ لڑائی کا مرکز دمشق کا جنوبی حصہ ہے جہاں ٹیڈامون کوارٹر سے گولہ باری اور بم حملوں کی خبریں ملی ہیں۔

دمشق کے مرکز میں بھی گولی باری اور دھماکوں کی آواز سنائی دی گئیں ہیں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق شہر کے مغربی علاقے دومار میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے ایک ویڈیو فوٹیج شائع کی گئی جس میں حلب کے علاقے صلاح الدین میں باغیوں کے ہیڈکوارٹر پر فوج کی پرچم لہرا رہا ہے بعد میں اس علاقے میں دھماکے کی آواز بھی سنائی دی۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حلب اور دمشق کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے شامی حکومت کو ابھی بھی باغیوں کو باہر نکالنے کے لیے پختہ کارروائی کرنی ہے۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج حلب پر اپنا قبضہ دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہے۔

حلب ایک ایسا شہر ہے جس کو حکومت کسی قیمت پر اپنے کھونا نہیں چاہتی۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے شام میں تشدد روکنے میں ناکامی پر سلامتی کونسل کی مذمت میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی تھی۔

روس اور چین نے اس قرارداد کی منظوری کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے امن کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں ایک سو تینتیس اور مخالفت میں بارہ ووٹ آئے جبکہ اکتیس ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اس قرارداد پر رائے شماری سے قبل جمعہ کو شام میں تشدد کے واقعات کی نئی لہر دیکھی گئی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق شام کے مختلف شہروں میں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں جمعرات کو ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے جبکہ حکومت مخالف تحریک کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد بیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اسی بارے میں