خلائی راکٹوں کا ملبہ صحت کے لیے مضر: روسی شہری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

روس اور قزاقستان کی سرحد پر واقع وسیع ٹائیگا جنگل کا یہ حصہ خلائی ملبے سے اٹا پڑا ہے۔ ہر طرف ہلکے دھاتی ٹکڑے گھاس پر اور جھاڑیوں میں جھلملاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

روس کے پروٹون راکٹوں نے خلاء میں کئی مصنوعی سیارے بھیجے ہیں، جن سے ملک کی خلائی صنعت کو چھ ارب ڈالر کا منافع ہوا ہے۔ لیکن جب بھی راکٹ داغا جاتا ہے، اس کے ترک کردہ حصے بیکونر خلائی مرکز سے سینکڑوں کلومیٹر دور مشرقی سائبیریا میں جا گرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ حصے ایندھن کی ٹینکیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں زہریلا ایندھن ہوتا ہے۔

جو لوگ اس علاقے میں رہتے ہیں وہ صحت کو لاحق ممکنہ خطرات کے باعث تشویش کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں بہت کم تحقیق کی گئی ہے اور جو تحقیق ہوئی بھی ہے وہ شائع نہیں کی گئی، لیکن مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ متاثر ہو رہے ہیں۔

اولگا تادیکوا کا کہنا ہے کہ ’راکٹ یہاں گرتے رہتے ہیں، اس لیے ان کا کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں پر لازمی اثر پڑتا ہو گا۔‘ اولگا روسی ریاست التائی کے گاؤں کاراکوکشا میں بچوں کے امراض کی ڈاکٹر ہیں۔ یہ علاقہ راکٹوں کی پرواز کے راستے کے عین نیچے واقع ہے۔

خارج شدہ راکٹ اس گاؤں سے بہت قریب گرتے ہیں جہاں اولگا پندرہ سو باسیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ راکٹ کے ایندھن میں بے حد زہریلا مادہ یوایم ڈی ایچ پایا جایا ہے جو فضا میں پھیل کر مٹی اور پانی میں سرایت کر جاتا ہے اور جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

صحت کو پہنچنے والے نقصانات

ڈاکٹر تادیکوا دو عشروں سے مقامی بچوں کا علاج معالجہ کر رہی ہیں۔ ان برسوں کے دوران علامات یکساں رہی ہیں، یعنی خون کی کمی، الرجی، گلا خراب ہونا اور جلد کی بیماریاں۔

ان کا کہنا ہے ’ہو سکتا ہے یہ ماحول کا اثر ہو۔ لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ ابھی تک کسی نے اس بات پر تحقیق نہیں کی کہ آیا راکٹوں کے خلاء میں بھیجے جانے اور اس علاقے کے لوگوں کے صحت کے مسائل کے درمیان کوئی تعلق ہے جہاں ان کا ملبہ گرتا ہے۔

اس علاقے کے افراد جو خوراک کھاتے ہیں وہ یا تو ٹائیگا جنگل سے آتی ہے، یا ان کے کھیتوں سے۔ یہاں روزگار کے ذرائع محدود ہیں اور ان کی گزر بسر کے بڑے ذرائع شکار یا چیڑ کے بیج اکٹھا کرنا ہیں۔

پیشہ ور شکاری پیوتر ایووشیف کا کہنا ہے ’ٹائیگا ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ ہمارا انحصار اسی پر ہے اور ہمارے پاس اس پر تکیہ کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔‘ وہ سمور کا شکار کر کے اس کی کھال فروخت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’حالیہ دنوں میں زیادہ سے زیادہ بیمار جانور دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کی کھالوں پر سیاہ دھبے ہوتے ہیں اور فر غیر معمولی طور پر پتلی ہوتی ہے جسے فروخت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔‘

ایووشیف نے بتایا ’ہو سکتا ہے اس کی وجہ راکٹ کے ملبے اور کیمائی آلودگی ہو۔‘ وہ کہتے ہیں’میں اتنا پڑھا لکھا تو نہیں ہوں کہ یقین سے کچھ کہہ سکوں۔ لیکن پھر بھی میں جاننا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ٹائیگا کے اندر جانا ہی خطرے کا باعث ہو۔‘

کینسر کے کیس

مرینا لیامکینا کو مضر ایندھن اور اس علاقے میں کینسر کی بلند شرح میں تعلق نظر آتا ہے۔ سینتالیس سالہ مرینا لیامکینا ڈاکٹر تادیکوا کی ہمسائی ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہمارے جنگلات خلائی کوڑا دان بن گئے ہیں،‘ وہ کہتی ہیں کہ ایسے حالات میں وہ چپ نہیں بیٹھ سکتیں جب ان کی مادرِ وطن کو آلودہ کیا جا رہا ہو۔

’یہ زہریلا مواد عشروں سے مٹی اور پانی میں جمع ہو رہا ہے۔ ہم ہر روز زہریلی غذا کھاتے اور زہریلا پانی پیتے ہیں، اور کوئی شخص نہیں ہے جو ہمیں حقیقت سے آگاہ کرے۔‘

لیامکینا کا کہنا ہے اس علاقے میں رہنا خطرناک ہے۔ ان کے مطابق گاؤں کے لوگ بلند فشارِخون اور سر درد کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس علاقے میں کینسر کی شرح غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔

انہوں نے کہا، ’ہر گھر میں کینسر کے مریض ہیں۔ کسی کے گٹھلی ہے، کسی کا آپریشن ہو چکا ہے اور کوئی ہلاک ہو چکا ہے۔‘

ایک اور مقامی خاتون فیدوسیا گوربونووا کے گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے دس کی موت کینسر کے باعث ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ راکٹ داغنے کے بعد عموماً بارش ہوتی ہے جس سے سبزیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور بعض اوقات جلد جلنے لگتی ہے۔ انہیں شک ہے کہ یہ تیزابی بارش ہے۔

تاہم خرونیچیف ریاست کے خلائی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر اناطولی کوزن اس کی تردید کرتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اس معاملے پر خصوصی تحقیق کی ہے۔ راکٹوں خلا میں بھیجنے سے فضا میں موجود تیزابیت پر اثر نہیں پڑتا۔‘

کوزن کہتے ہیں’ایسے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں جو التائی کے علاقے میں بیماریوں اور راکٹ کے ایندھن سے پڑنے والے اثرات کے درمیان کسی تعلق کو ثابت کر سکیں۔‘

کُوزن کا کہنا ہے کہ روسی حکومت باقاعدگی سے تحقیق کرتی رہتی ہے جس سے التائی کے جنگلات میں کسی قسم کے زہریلے پن کا سراغ نہیں ملا۔

وہ لوگ اس تحقیق کی اشاعت چاہتے ہیں جو ان علاقوں کے قریب رہتے ہیں جہاں راکٹوں کا ملبہ گرتا رہتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہاں کی آبادی کا مفت طبی معائنہ ہو اور جو لوگ بیمار ہیں ان کے لیے مفت ادویات فراہم کی جائیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ روس تجارتی اور دفاعی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔

اسی بارے میں