روس: بچوں کو زیرِ زمین قید رکھنے والا فرقہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس کے علاقے تاتارستان میں مسلمانوں کے ایک فرقے کے چار افراد پر بچوں کے خلاف ظالمانہ سلوک کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان افراد نے مبینہ طور پر کئی بچوں کو برسوں تک زیرِ زمین رکھا۔

اس فرقے کے ایک رہنما فیض رخمان ساتروو نے انیس سو ساٹھ کی دہائی کے وسط میں مسلمانوں کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس پر آمریت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس نے اس شخص کے گھر سے ستائیس بچوں اور اڑتیس بالغ افراد کو بازیاب کروایا جنہیں قبروں کی طرح بنائے گئے تہہ خانوں میں رکھا گیا تھا۔ یہ تہہ خانے تہہ در تہہ تھے اور ان لوگوں کو زیرِ زمین آٹھویں حصے میں رکھا گیا تھا۔

روس کی ریاست تارتارستان کے حکام کا کہنا ہے کہ بازیاب کرائے گئے بچوں میں سے اکثر نے کبھی آسمان اور دن کی روشنی نہیں دیکھی۔

اس زیرِ زمین سلسلے جائزہ لینے والے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں آگ لگنے کا خدشہ موجود تھا جبکہ یہاں ہوا کے آنے جانے اور صفائی کا مناسب انتظام نہیں تھا۔

بچوں اور فقہی رہنما کو گزشتہ ماہ ایک مسلمان عالم دین کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں ہونے والے ایک آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا۔

تراسی سالہ فیض رخمان ساتروو نے ازخود ایک فقہ تشکیل دیا ہوا ہے اور ان کے بارے میں تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ وہ علاقے میں مسلمانوں کے علمائے دین کے قتل کی وارداتوں میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔

فیض رخمان ساتروو کا فقہ روس کے ریاستی قوانین کو نہیں مانتا اور نہ ہی تار تارستان میں مسلمانوں کے روایتی اور مستند رہنماؤں کی عملداری کا معترف ہے۔

اس فقے کے مانے والے افراد کو زیر زمین رہنا پڑتا ہے اور سورج کی روشنی اور دنیاوی کاموں میں حصہ لینا منع ہے لیکن چند افراد کو تجارت کے غرض سے کبھی کبھار باہر جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔

اسی بارے میں