سکھوں کا قصور ان کی ظاہری وضع قطع؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دو ہزار ایک میں ایک شراب کی دکان کے سکھ مالک کو بھی طالبان سمجھ کر پیٹا گیا۔

جب کئی برسوں کے بعد پہلی بار میں نیویارک آیا تو ایک شام ایمسٹرڈم ایونیو پر جس راہ گیر سے میں نے لنکن سینٹر کے ایک تھیٹر کا پتہ پوچھا تھا تو وہ ایک سکھ تھا۔

ابھی یہ سکھ راہ گیر میرا پوچھا ہوا پتہ بتانے کے لیے رکا ہی تھا تو اس کے آگے ایک وین نے آکر بریک مارا اور اس میں بیھٹے ہوئے مقامی نوجوانون نے اس سکھ راہ گیر اور اس کے ساتھی پر آوازے کسے ’بن لادن‘ اور یہ جا وہ جا، وین فراٹوں میں غائب۔۔۔

امریکہ میں جب سے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویار ک اور واشنگٹن پر پر دہشتگردانہ حملے ہوئے تھے تب سےسکھ جن کا اس سے نہ لینا نہ دینا زبانی اور جسمانی حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ ان کا قصور؟

ان کا قصور ان کی وضع قطع و تراش خراش ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح پاکستان کے شہرکوئٹہ سمیت بلوچستان میں ہزارہ برادرری کے لوگوں کا قصور ان کی شکل و شباہت یا منگول فیچرز ہیں۔

دو ہزار ایک کے ستمبر سانحے کے بعد کیلیفورنیا، جہاں تمام امریکہ میں سب سے زیادہ سکھ آبادی ہے وہاں پر بسوں اور ٹرنیوں پر ریاستی انتظامیہ کی طرف سےنفرت پر مبنی جرائم کے خلاف اشتہار لگایا گیا جس میں شلوار قمیض پہنے ایک جنوبی ایشیائی خاتون کو دکھایا گیا تھا اور اس کے ساتھ تحریر تھا پہلے انہوں نے مجھے روکا پھر وہ مجھ پر چلائے اور کہا ’اپنے گھر (ملک) واپس جاؤ‘

ستمبر دو ہزار ایک کے بعد متواتر سکھ امتیازی سلوک یا تشدد کے حوالے سے نشانے پر ہیں جس کی ایک مثال سکھ حقوق کی تنظیم ’سکھ کولیشن‘ کی وہ رپورٹ ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار ایک سے لے کر اب تک ان کی تنظیم سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک و تشدد کی ایک ہزار شکایات وصول کرچکی ہے۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد تیرہ ستمبر کو ایریزونا ریاست میں پہلا شکار ایک گيس اسٹشین کا مالک بلبیر سنگھ سوڈھی تھا جس پرایک مقامی سفید فام نوجوان نے حملہ کر کر اسے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ بلبیر سنگھ کے مبینہ قاتل نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ میڈیا پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشتگرد حملے کی فوٹیج بار بار دیکھنے کے بعد عربوں کو ختم کرنے نکلا تھا ۔حملہ آور نعرے مارتا رہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ امریکہ کیلیے کر رہا ہے۔

کئي سکھوں کو مارا پیٹا گیا، کئی کو شدید زخمی کیا گیا ان کے گُردواروں، دکانوں، ریستورانوں اور شراب کی دکانوں پر حملے ہوئے ۔ ابھی صرف گذشتہ سال دو ہزار گيارہ میں کیلیفورنیا کے سانتا کلارا میں دو بزرگ سکھوں پر چھریوں سے حملے ہوئے۔

ان کئي حملوں میں حملہ آوروں نے نعرے لگائے، چيخے چلائے، جشن کرتے گئے کہ انہوں نے ’طالبان‘ ، اور ’بن لادن ‘ کو مارا ہے۔

اگرچہ ان میں کئی مقدمات کے ملزمان کو عدالتوں سے سخت سزائيں بھی سنائیں جن میں بلبیر سنگھ سوڈھی کے قاتل کو سزائے موت جو پھر عمر قید میں بدل دی گئی شامل ہے لیکن سکھوں پر تشدد کے واقعات متواتر سننے میں آتے رہے۔

نیویارک میں سکھوں کیلیے انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی تنظیم سکھس فار جسٹس کے ایک نوجوان وکیل نے ایک مقامی امریکی کے حوالےسے بتایا کہ ’ستمبر دو ہزار ایک یا اس کے بعد تک بھی ہم یہ سمجھتے تھے کہ سکھ وہ ہندو ہیں جو مسلمان ہوتے ہیں۔‘

جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو ہزار ایک میں ایک شراب کی دکان کے اس سکھ مالک کو بھی طالبان سمجھ کر پیٹا گیا جس نے اپنے سر پر امریکی جھنڈے کی پگڑی پہنی ہوئي تھی۔

تارکین وطن کا ملک کہلانے والے امریکہ میں سکھ جنوبی ایشیائی تارکین وطن میں سب سے قدیم آبادی ہے جو بسیویں صدی کی شروعاتی دہائي میں شمالی امریکہ پہنچے تھے۔ سان فرانسسکو میں پہلے سکھ جلاوطنوں کی یاد میں غدر پارٹی ہال آج بھی موجود ہے ۔

لیکن سکھوں کی امریکہ میں سب سے بڑی آبادی انیس سوچوراسی میں سابق وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل یا اس سے پہلے گولڈرن ٹمپل جیسے واقعات میں ان کے خلاف تشدد سے بھاگ کر آنیوالوں کی ہے۔ بقول میرے ایک وکیل دوست کے سال انیس سو چوارسی سے لیکر اٹھانوے تک نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائيرپورٹ پر جنوبی ایشیائي ملکوں کی ایسی کوئي پرواز نہیں تھی جس میں روزانہ چار پانچ سکھ نہ اترتے ہوں۔

اور سکھوں کو اب امریکہ میں بھی مقامی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے لیے سی این این نے کہا کہ امریکہ کو مقامی دہشتگردی سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا القاعدہ سے ہے۔

اسی بارے میں