شام: حلب شہر باغیوں کے ہاتھ سے نکل گیا

حلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب کے کئی علاقوں میں بمباری کی اطلاعات ہیں

شام میں حزبِ اختلاف کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ حلب شہر کا ایک اہم ڈسٹرکٹ صلاح الدین اُن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

باغی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کارروائی کے نتیجے میں وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

سرکاری فورسز نے حلب شہر پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے تا کہ شہر کے اُن علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جا سکے جن پر باغیوں نے قبصہ کر لیا تھا۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کو اب اِس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا ہے اور ’دہشت گردوں‘ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حلب شہر کے مختلف علاقوں میں حملے ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی گئی ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران شام کے مسئلے پر ایک عالمی اجلاس کی تیاری کر رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں وہی ممالک شرکت کریں گے جو شام کے مسئلے پر ’حقیقت پسندانہ ‘ موقف رکھتے ہوں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تہران میں ہونے والے اس اجلاس میں کون سے ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

دریں اثناء ایران کے شامی حکومت کے ساتھ قریبی رشتوں کے پیش نظر مغربی ممالک نے اس بات پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ ایران شام کے مسئلے پر ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو شام میں صدر بشارالاسد کی حامی افواج نے دعوٰی کیا تھا کہ انھوں نے شدید لڑائی کے بعد سب سے بڑے شہر حلب کے اہم حصے پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ باغیوں نے فوج کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے حلب کے گھنی آبادی والے علاقے صلاح الدین میں لڑائی کے دوران ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کا استعمال کیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے اس علاقے پر پوری طرح سے قبضہ کرلیا۔ سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر میں بمباری کے بعد تباہ شدہ عمارتوں میں لاشوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

امدادی کارکنوں کے مطابق فوج کی گولہ باری سے حلب میں بارہ افراد جاں بحق ہوئے تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ شام کے مختلف شہروں میں بھی حملے ہوئے ہیں۔

تنظيم کا کہنا ہے کہ بدھ کو صلاح الدین شہر کے مختلف اضلاع میں حملوں میں تقریبا چھبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پورے ملک میں تقریبا ایک سو تیس افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں گزشتہ ایک سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں