مراکش: شادی سے پہلے جنسی روابط پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مراکش کی اخبار الاحدث المغربیا کے مدیر مقطرالغزیو کو آج کل اپنی جان کا خطرہ ہے کیونکہ حال ہی میں ایک مقامی ٹی وی چینل پر لائیو بحث کے دوران انہوں نے شادی سے قبل جنسی تعلقات کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا ’اس بحث کے بعد وجدۃ کے ایک مولوی نے فتویٰ جاری کردیا کہ مجھے قتل کردیا جائے۔ میں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہت فکرمند ہوں۔ یہ جدت پسند لوگوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ مراکش جدت کی راہ پر گامزن ہے۔‘

مراکش کے تعزیرات کی شق چار سو نوے کے تحت غیر ازدواجی تعلقات رکھنے پر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ یہ قانون اسلامی قانون کے تحت ہے جس میں غیر شادی شدہ افراد کا جنسی تعلقات رکھنے کی ممانعت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مقطرالغزیو کے بیان نے مراکش میں شور برپا کردیا ہے۔

مراکش کی انسانی حقوق کی ایسوسی ایشن نے مراکش کے تعزیرات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جنسی طور پر مضطرب مرد عورتوں کو ہراساں نہ کرسکیں۔

مراکس میں سیکس تھیراپسٹ ابو بکر حرکت کا کہنا ہے کہ اگر قانون کو ایک دم تبدیل بھی کردیا جائے لیکن لوگوں کی رائے عورت کے کنوارے پن کے بارے میں یکدم تبدیل نہیں ہو گی۔ ’معاشرہ افراد کو قانون کے احترام کرنے پر زور دیتا ہے نہ کہ انفرادیت پر۔‘

مثال کے طور پر پچھلے سال عدالت نے حکم دیا کہ زبردستی زنا کرنے والا شخص سولہ سالہ لڑکی آمنہ فلالی سےشادی کرے تاکہ آمنہ کے خاندان کی عزت بچ سکے۔

آمنہ نے مارچ میں اس وقت خودکشی کر لی جب اس کے شوہر نے ان کو زدوکوب کیا۔ یہ واقعہ مراکش کے غریب دیہی علاقے میں پیش آیا جہاں روائتی عقائد کو سختی سے مانا جاتا ہے۔

مراکش کی محمد پنجم یونیورسٹی میں انسانی معاشرے کے پروفیسر عبدالصمد دیلمی کا کہنا ہے کہ تعزیرات کے آرٹیکل چار سو نوے کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ سیکس کرنا انسانوں کا حق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ افراد میں جنسی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کی شادی بہت دیر میں ہوتی ہے۔ ’سماج میں چاہے سیکس پر بات نہ ہوتی ہو لیکن اس کے بارے میں ہر وقت سوچا جاتا ہے۔‘

شادی سے قبل جنسی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ قانون میں لگی کئی پابندیوں سے بچ کر تعلقات بنائے رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ ہوٹل کا کمرہ شیئر کرنا ممنوع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچھلے سال عدالت نے حکم دیا کہ زبردستی زنا کرنے والا شخص سولہ سالہ لڑکی آمنہ فلالی سےشادی کرے تاکہ آمنہ کے خاندان کی عزت بچ سکے۔ آمنہ نے مارچ میں اس وقت خودکشی کر لی جب اس کے شوہر نے ان کو زدوکوب کیا۔

پچیس سالہ لوبابا نئی نسل کی وہ خاتون ہیں جن کی سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر میں چاہتی ہوں کہ میں ہفتے کے آخری دن اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گزاروں تو ہم ہوٹل میں دو کمرے بُک کروائیں گے۔‘

لیکن لوبابا کو معلوم ہے کہ وہ خطرہ مول لے رہی ہیں۔ کچھ عرصے قبل ایک غیر شادی شدہ جوڑے کو چھ ہفتے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مراکش کے دارالحکومت الدار البيضاء کی مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ آرٹیکل چار سو نوے غیر مغربی تہذیب کا اہم جزو ہے۔ ’اگر یہ آرٹیکل ختم کردیا گیا تو ہم جانور بن جائیں گے۔ ہمارا سماج تباہ ہو جائے گا۔‘

تاہم مذہبی عناصر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جنسی روابط کے حوالے سے سخت قوانین کے باعث عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مرد اہم شاہراہوں پر لڑکیاں اٹھانے کے لیے پھرتے ہیں اور اس عمل کو ’عورتوں کا شکار‘ کا نام دیتے ہیں۔

لیکن مراکش کی نئی اسلامی حکومت کے وزیرِ قانون مصطفیٰ رامد نے یہ بات واضح کی ہے کہ یہ قانون تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

پچھلے سال جب نئے آئین کا اعلان کیا گیا تو مغربی حکومتوں نے مراکش کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں اس کو جمہوریت اور جدت کی مثال قرار دیا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکس کے بارے میں بحث شروع ہونے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ ایشو جن پر پہلے بات نہیں کی جاسکتی تھی اب زیرِ بحث آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں