امریکی سرحدی محافظ انسانی سمگلنگ کےمجرم

امریکی سرحدی گارڈ کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption برازیل کی ایک خاتون نے گواہی دی ہے کہ اس نے سرحد پار کرنے کے لیے بارہ ہزار ڈالر دیئے تھے

امریکہ کی سرحدی گشت کے دو سابق پولیس اہلکاروں کو میکسکو سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو سرحد پار کرانے کے الزام میں مجرم پایا گیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی مفاد کے لیے غیر قانونی تارکین وطن کو سرحد پار کرائی۔

رول ولارئیل اور انکے بھائی فیڈیل ولارئیل کو رشوت لینے اور منی لونڈرنگ کے الزام میں بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اس معاملے کے سامنے آنے سے پہلے رول ولارئیل یو ایس بارڈر پیٹرول ایجنسی یعنی امریکی سرحدی گشت ایجنسی کے معروف ترجمان کے طور پر جانے جاتے تھے۔

پولیس کو دونوں اہلکاروں کے کارناموں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل ہوئی تھی جس کے بعد سنہ دوہزار پانچ اس معاملے کی تفتیش شروع ہوئی تھی۔

رول ولارئیل اور ان کے بھائی کے علاوہ ایک تیسرے شخص ارمانڈو گارشیہ کو بھی انہیں الزامات میں قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ سنہ دوہزار اور دوہزار چھ میں کئی مواقع پر مسٹر گارشیہ میکسیکو اور برازیل کے تاریک وطن کا ایک گروپ لے کر سرحد پر آتے تھے اور وہاں سے ولارئیل بھائی ان کو اپنی سرکاری گاڑی میں بٹھاکر امریکہ چھوڑ دیتے تھے۔

عدالتی کارروائی میں ان جاسوسی کیمروں کی مدد لےگئی جو اس جگہ نصب کیےگئے تھے جہاں سے ان تاریک وطن کو لایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ سرحدی گارڈز کی گاڑیوں میں نصب جی پی ایس ڈوائیس، سمگلنگ گروپ کی نگرانی کرنے والا جہاز جس میں کمیرا لگا تھا اور عین شاہدین کی گواہی کی بھی مدد لی گئی۔

برازیل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس نے سرحد پار کرنے کے لیے بارہ ہزار ڈالر کی قیمت ادا کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جج نے اپنے فیصلے میں کہا ’انہوں نے سرحد کو اپنا کام بنالیا تھا۔‘

اطلاعات کے مطابق ان دونوں بھائیوں کو نومبر میں سزا سنائی جائے گی۔ خبر رساں ایجنسی ایسویٹیڈ پریس کے مطابق ان دونوں اہلکاروں زیادہ سے زیادہ پچاس برس کی قید اور سوا ملین ڈالر کے معاوضے کی سزا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں