امریکہ: سکھوں کی آخری رسومات کی ادائیگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی ریاست وسکونسن میں گوردوارے پر حملے میں ہلاک ہونے والے چھ سکھوں کی آخری رسومات میں امریکی حکام سمیت سینکڑوں افردا نے شرکت کی ہے۔

ادھر وسکونسن ریاست کی ایک وفاقی عدالت نے امریکہ کا دورہ کرنے والے بھارتی پنجاب کے سابق وزیراعلی برکاش بادل کے خلاف ایک سکھ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے دائر کیے گئے‎ مقدمے میں سمن جاری کر دیے ہیں۔

گوردوارے پر حملے میں ہلاک ہونیوالے چھ سکھوں کی یاد میں جمعہ کی صبح ان کی آخری رسومات وسکونسن ریاست کے شہر اوک کریک کے ایک مقامی سکول کے جمنازیم ہال میں ہوئيں جن میں مقتولین کے لواحقین، احباب اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ امریکہ کے اٹاری جنرل ایریک ہولڈر سمیت سینکڑوں مقامی افراد نے بھی شرکت کی۔

مقامی میڈیا نے حملے میں ہلاک ہونے والی خاتون پرماجیت کی بیٹی کمل سیانی کے اس اجتماع کے موقع پر بیان کے حوالے سے بتایا کہ آج یہاں نہ کوئی سکھ، کوئی پنجابی، کوئی امریکی سکھ ، نہ سفید فام امریکی اور نہ ہی سیاہ فام امریکی دکھائی دیتا ہے بلکہ یہاں سب ایک دکھائی دیتے ہیں۔‘

گزشتہ اتوار کے حملے میں مارے جانے والے گوردوارے کے صدر ستیونت سنگھ کالیکا کی بیٹے پردیپ سنگھ کالیکا نے بھی شرکت کی۔

ستیونت سنگھ کالیکا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو حملہ آور نے اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کردیا جب انہوں نے مشتبہ حملہ آور کو گوردوارے میں آنے سے روکنے کی کوشش کی۔

یو م غم اجتماع میں امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا کہ وہ امریکی صدر باراک اوباما اور عوام کی جانب سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم سب آپ (سکھوں کے) ساتھ سوگ اور دعائوں میں ساتھ ہیں۔ اس موقع پر امریکی اٹارنی جنرل نے تمام سکھ مقتولین کے نام بھی پکارے۔

خیال رہے کہ امریکی صدار باراک اوباما نے گوردوارے پر حملے میں مارے جانے والے سکھوں کے سوگ میں جمعہ تک ملک بھر میں وفاقی عمارات پر امریکی پرچم نیم سر سرنگوں رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔

وسکونسن کے سکھ مقتولین کی یاد میں اجتماع غم میں ایک بڑی ٹی وی اسکرین پر حملے کی اطلاع موصول ہونے پر سب سے پہلے جائے واردات پر پہنچنے اور حملہ آور کی گولیوں میں شدید زخمی ہونے والے پولیس افسر برائن مرفی کی تصویر بھی دکھائي جاتی رہی جن کا اب ہیرو کے طور پر اعتراف کیا جا رہا ہے۔

پولیس افسر برائن کا تعلق نیویارک بروکلین سے ہے اور ان کی حالت اب تسلی بخش اور خطرے سے باہر بتائي جاتی ہے۔

ادھر نیویارک میں سکھوں کے انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی ایک تنظیم سکھس فار جسٹس کے سربراہ اور قانون دان گرپتونپ پنوں کی جانب سے بی بی سی اردو کو قانونی دستاویزات کی نقول موصول ہوئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق تنظیم نے وسکونسن کی ایک وفاقی عدالت یو ایس ایسٹرن ڈسٹرکٹ کورٹ وسکونسن میں بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلی پرکاش بادل جنہوں نے حال ہی میں وسکونسن کا دورہ کیا تھا کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں ان پر الزمات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ اور حزب مخالف پارٹی اکالی دل بھارتی پنجاب میں سکھوں کے ماورائے عدالت یا پولیس تحویل میں قتل میں ملوث رہے تھے۔

بعد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سکھس فار جسٹس کے ترجمان نے مقدمے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وسکونسن کی وفاقی امریکی عدالت نے پرکاش بادل کے علاوہ ان کے ساتھ سابق آئی جی پو لیس سمیدہ سینائی اور امرتسر کی حزب مخالف پارٹی شرومانی اکالی دل کے خلاف امریکی قوانین کے مطابق سکھ متاثرین کے لواحقین کی جانب سے مقدمہ دائر کیا ہے۔

مقدمے کی دستاویزات میں پنجاب میں دو بار وزیر اعلی رہنے والے پرکاش بادل پر ان کے دونوں ادوار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایسے مقدمے کو وسکونسن کی وفاقی عدالت ایسٹرن ڈسٹرکٹ یو ایس کورٹ کی جانب سے ڈاکیٹ نمبر اور سمن بھی جاری کردیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں