صدر مرسی کی فوج پر حیران کن ضرب

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

مصری صدر مرسی نے فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی اور ان کے نمبر دو جنرل سمیع عنان سمیت سات بڑے جرنیلوں کو عہدوں سے الگ کر کے مصری قوم کو حیران کر دیا۔

سرکاری ٹی وی پر دوپہر کے وقت دکھائی جانے والی ایک خبری کانفرنس میں صدارتی ترجمان نے کہا کہ متنازع آئینی ترمیم کو بھی ختم کیا گیا ہے جو جون میں متعارف کی گئی تھی۔

جب فوج اقتدار میں تھی تو یہ ترمیم فوجی کونسل نے صدارتی اختیارات کو کم کرنے کے لیے جاری کی تھی۔

بروکنگز انسٹیٹیوٹ دوحہ سنٹر میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر عمر آشور کے مطابق یہ تبدیلی تاریخ میں سول اور فوجی انتظامیہ کے درمیان طاقت کے توازن کا سول کی طرف جھکاؤ کے ضمن میں ایک بڑے قدم کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصر کی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک منتخب سیاستدان نے فوجی سربراہوں کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ صدر مرسی نے ان اقدامات کے بارے میں فوج کو اعتماد میں لیا تھا یا نہیں۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انھوں نے فیلڈ مارشل طنطاوی اور جنرل عنان کی رضامندی ضرور حاصل کی ہوگی کیوں کہ کہا گیا ہے کہ یہ دونوں صدر کے مشیر کے طور پر کام کریں گے۔

دکھائی دیتا ہے کہ فوج کے دوسرے لوگوں نے بھی ان اقدامات کی تائید کی ہے۔ جنرل عبدالفتاح السیسی نے جنرل طنطاوی کی جگہ نئے وزیر دوفاع کے طور پر حلف لے لیا ہے۔

صدر مرسی کے آئینی اختیارات کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا ان کے پاس یہ اقدامات کرنے کے اختیارات تھے، لیکن سابق فوجی بریگیڈیر اور بین الاقوامی قانون کے ماہر آئیمان سلاما نے بی بی سی کو بتا کہ صدر نے آئینی طریقے سے کام کر کے ٹھیک کیا ہے۔

یہ اقدامات ایسے وقت کیے گئے ہیں جب مصری فوج سینا کے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

پچھلے ہفتے دہشت گردوں کے ایک حملے میں سولہ سرحدی محافظ مارے گئے تھے۔

لگتا ہے کہ صدر مرسی نے فوج کی ناکامی سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو حیران کرنے والے سیاسی فیصلے کیے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملک کے مفاد میں اٹھائے گئے ہیں تاکہ فوج ملک کی دفاع پر توجہ دے سکے۔ ان کا مقصد کسی خاص اشخاص کو ہدف بنانا نہیں تھا۔

لوگ کی بڑی تعداد تحریر چوک میں جمع ہوئی اور صدر مرسی کے فیصلوں پر جشن منایا۔

تحریر نامی اخبار نے پہلے صفے پر یہ سرخی لگائی:’مرسی نے فوج کے خلاف انقلاب کا اعلان کر دیا‘۔

اسی بارے میں