چین، جاپان کو کراچی کی صورتحال پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک ماہ پہلے چین کے سفارتخانے کے قریب ہلکی نوعیت کا دھماکہ ہوا تھا

چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے سفارتکاروں نے کراچی میں سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعلیٰ کو شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

کراچی میں متعین جاپان کے قونصل جنرل ماسا ہاروساتو، جنوبی کوریا کے قونصل جنرل اکی لی اور چین کے پینگیانگ جیانگ نے پیر کو سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کر کے انہوں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایک ماہ پہلے چین کے سفارتخانے کے قریب ہلکی نوعیت کا دھماکہ کیا گیا تھا، اس سے پہلے سعودی عرب کے سفارتخانے کے باہر دستی بم پہینکا گیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابق قونصل جنرلز نے سندھ کو کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظ اور محفوظ آمدروفت کے لیے ضروری ہے۔

قونصل جنرلز نے وزیراعلیٰ نے تجاویز دیں کہ شہر کو اسلحہ سے پاک، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گشت کو موثر، اہم مقامات پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اور سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ کراچی میں موجود تمام غیر ملکی قونصلیٹس کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔

آئی جی پولیس سندھ فیاض لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ فارن مشنز کی سکیورٹی کے لیے خصوصی سیل تشکیل دیا گیا ہے ، جس کا سربراہ ایک ایس پی کو متعین کیا گیا ہے۔

آئی جی نے قونصل جنرلز پر زور دیا کہ قونصلیٹ کے اراکین کسی بھی جگہ نقل و حمل سے قبل پولیس کو اطلاع دیں اور سکیورٹی اسٹاف کے بغیر سفر نہ کریں۔

سید قائم علی شاہ نے قونصل جنرلز کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت انہیں تحفظ فراہم کرے گی اور وہ کسی بھی وقت قانون نافذ کرنے والے ادراوں کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں