شام: باغیوں کا جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ویڈیو میں روسی ساختہ مگ 23 جنگی طیارے کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی فضائیہ کا ایک جنگی جہاز عراقی سرحد کے قریب ’ تکنیکی خرابی‘ کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔

ادھر شام کے منحرف فوجیوں کی تنظیم ایف ایس اے یا فری سیرئین آرمی نے بھی اسی علاقے میں فوجی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے جہاز کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جبکہ باغیوں نے ایک ایسے شخص کی ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جو ان کے مطابق اس جنگی طیارے کا پائلٹ ہے جسے ملک کے مشرقی علاقے میں گرایا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نیوز کے مطابق تباہ ہونے والا جنگی جہاز معمول کی پرواز پر تھا اور دورانِ پرواز پائلٹ تکینکی خرابی کی وجہ سے اس کا کنٹرول کھو بیٹھا تاہم وہ جہاز گرنے سے پہلے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگی جہاز کو عراقی سرحد سے ایک سو بیس کلومیٹر دور صوبہ دیرالزور کے شہر المحاسن کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

خود کو ’فرات کی سرزمین کے انقلابی جوان‘ قرار دینے والے گروپ نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں مبینہ طور پر زیرِ حراست پائلٹ کو تین مسلح باغیوں کے نرغے میں دکھایا گیا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مشن المحاسن پر بمباری کرنا تھا۔

غیر جانبدار ذرائع سے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس میں دکھایا جانے والا پائلٹ اپنی شناخت کرنل فریر محمد سلیمان کے نام سے کروا رہا ہے اور اس کے چہرے پر چوٹوں کے نشان ہیں جو بقول اس کے حادثے کے دوران لگیں۔

باغیوں کی جانب سے جاری کردہ ایک اور ویڈیو میں روسی ساختہ مگ 23 جنگی طیارے کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے اور جہاز میں آگ لگنے سے قبل طیارہ شکن توپوں کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کنولے کے مطابق مگ 23 جنگی جہازوں کی موجودگی میں شامی حکومت کو باغیوں پر واضح برتری حاصل ہے اور اگر جنگی جہاز کو مار گرایا گیا ہے تو یہ شام میں جاری تنازع میں ایک اہم موڑ ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ شام میں باغیوں کو طیارہ شکن ہتھیاروں تک رسائی ہوئی ہے۔ ہفتۂ رواں میں ہی شام باغیوں کی ایسی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی تھیں جن میں ان کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں