شام: صدر بشارالاسد کے قریبی ساتھی چین میں

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 08:59 GMT 13:59 PST

شام میں حکام کے مطابق صدر بشارالاسد کے ایک قریبی ساتھی ملک کے بحران پر بات چیت کے لیے چین گئے ہیں۔

دوسری طرف شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق پیر کو دمشق اور حلب میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

کارکنوں کے مطابق دمشق اور اس کے مضافات میں کم از کم چونسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق شامی رہنما بھوتیانہ شعبان چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق ملاقات اقوام متحدہ کے چھ نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے سے متعلق کوششوں کا حصہ ہے۔

چین اس سے پہلے دو بار شام کے مسئلے پر اقوم متحدہ کی دو قرار دادوں کو ویٹو یا مسترد کر چکا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کِن گانگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین نے’مستعدانہ طریقے سے شامی حکومت اور حزب اختلاف سے تعلقات میں توازن رکھا ہے۔‘

بیان میں چین کے اس موقف کو دوہرایا گیا کہ’اقوام متحدہ کے سابق ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے پر عملی طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے اور فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔‘

دریں اثناء اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کی سربراہ ویلری ایموس شام پہنچ رہی ہیں تاکہ ہنگامی امداد کی ضرورت کا جائزہ لے سکیں۔

توقع ہے کہ وہ شامی حکام سے مطالبہ کریں گی کہ امدادی کارکنوں کو زیادہ ویزے فراہم کیے جائیں۔

ویڈیو میں روسی ساختہ مگ 23 جنگی طیارے کو شعلوں میں گھرا دکھایا گیا ہے

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری بحران سے اب تک بیس لاکھ افراد متاثر اور دس لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی فضائیہ کا ایک جنگی جہاز عراقی سرحد کے قریب ’ تکنیکی خرابی‘ کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔

ادھر شام کے منحرف فوجیوں کی تنظیم ایف ایس اے یا فری سیرئین آرمی نے بھی اسی علاقے میں فوجی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے جہاز کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جبکہ باغیوں نے ایک ایسے شخص کی ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جو ان کے مطابق اس جنگی طیارے کا پائلٹ ہے جسے ملک کے مشرقی علاقے میں گرایا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نیوز کے مطابق تباہ ہونے والا جنگی جہاز معمول کی پرواز پر تھا اور دورانِ پرواز پائلٹ تکینکی خرابی کی وجہ سے اس کا کنٹرول کھو بیٹھا تاہم وہ جہاز گرنے سے پہلے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگی جہاز کو عراقی سرحد سے ایک سو بیس کلومیٹر دور صوبہ دیرالزور کے شہر المحاسن کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔