ایران پر فوری اسرائیلی حملے کا امکان نہیں: پنیٹا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 22:21 GMT 03:21 PST

ابھی ایران سے بات چیت کی گنجائش موجود ہے: لیون پنیٹا

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر اسرائیل کے فوری طور پر حملہ کرنے کا امکان نہیں ہے۔

منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو نہیں لگتا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دو ہفتے قبل اسرائیل کا دورہ کرنے والے لیون پنیٹا نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ عسکری کارروائی کو ’آخری حربے‘ کے طور پر ہی استعمال کیا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائی گئی پابندیاں اپنا اثر دکھا رہی ہیں اور ابھی ایران سے بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔

پیر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر مائیکل اورن نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی آپشن استعمال کرنے سے پہلے کی مہلت تیزی سے گزرتی جا رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر اسرائیل کے صبر کا پیمانہ امریکہ کے مقابلے میں جلد لبریز ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی سفیر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لیون پنیٹا نے کہا کہ ’میں نہیں مانتا کہ انہوں نے اس وقت ایران پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے‘۔

خیال رہے کہ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن اگر اسے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

امریکی محکمۂ دفاع میں ہونے والی پریس بریفنگ میں موجود امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ایران پر اسرائیلی حملہ اس کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ نہیں کر سکتا تاہم اس سے ایران میں جوہری سرگرمیاں تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے شاید ان کی تمام صلاحیتوں کا اندازہ نہ ہو لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ نہیں کر سکتے بلکہ ان میں خلل ڈال سکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی میں مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

رواں برس کے آغاز میں انہوں نے ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس سٹاپ واچ نہیں ہے اور اگرچہ ’یہ دنوں یا ہفتوں کی بات نہیں ہے تاہم یہ سالوں کی بات بھی نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔