اغواء کا خطرہ، عرب شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 20:15 GMT 01:15 PST

المقداد ایسا شامی قبیلہ ہے جس کا عسکری شعبہ بھی ہے

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے شامی حکومت کے حامی قبیلے کی جانب سے اغواء کیے جانے کے خطرے کی بناء پر لبنان میں موجود اپنے تمام باشندوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کو کہا ہے۔

المقداد نامی قبیلے نے بدھ کو دھمکی دی ہے کہ وہ ان سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت ان سنّی ممالک کے باشندوں کو اغواء کر لے گا جو شام میں باغیوں کے حامی ہیں۔

قبیلے نے بدھ کو یہ اعلان بھی کیا کہ اس نے بیس شامیوں کو اغواء کیا ہے جو کہ دمشق میں باغیوں کی جانب سے ایک لبنانی کو یرغمال بنائے جانے کا بدلہ ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ حسن المقداد نامی یہ شخص حکومتی افواج کا ساتھ دے رہا تھا اور وہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کا رکن ہے لیکن حزب اللہ نے اس الزام سے انکار کیا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ کے حکام نے سعودی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ لبنان کے سفر سے گریز کریں۔

لبنان سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے باشندوں میں تفریحی دوروں کے لیے مقبول ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے باشندوں کے لیے ایسی ہی ہدایت جاری کی ہے۔ وزارت کے اہلکاروں کے مطابق ’متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کو ایسی اطلاعات ملیں کہ ہمارے شہریوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ لبنان کے مشکل اور حساس حالات کی وجہ سے کیا گیا ہے‘۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ المقداد قبیلے کے افراد سمگلنگ میں ملوث ہیں اور یہ ایک ایسا قبیلہ ہے جس کا عسکری شعبہ بھی ہے۔

شام کے دیگر ہمسایہ ممالک ترکی، عراق اور اردن کی طرح لبنان میں بھی شام سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد نے پناہ لی ہے۔

لبنان کے شہر طرابلس میں حال ہی میں شام کے صدر بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین میں مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دیگر ہمسایوں کی نسبت شام کے بحران سے لبنان کے داخلی حالات کے متاثر ہونے اور وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔