سگریٹ کی سادہ پیکنگ، قانون کی توثیق

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 07:50 GMT 12:50 PST

سگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیاں اس بات کی بھی پابند ہوں گی کہ وہ پیکٹوں پر سگریٹ پینے کے نقصانات کے بارے میں واضح طور پر انتباہی گرافکس بھی چھاپیں۔

آسٹریلیا کی سب سے بڑی عدالت نے سگریٹ کی تشہیر کے خلاف دنیا کے سخت ترین قانون کی توثیق کردی ہے۔

اس قانون کے تحت سگریٹ کے پیکٹوں پر کمپنیوں کے برانڈز کے مخصوص رنگ اور کاروباری علامات شائع کرنے پر پابندی ہوگی۔

اب تمام برانڈز کے سگریٹ ایک جیسے پیکٹوں میں فروخت کیے جائیں گے جن کا رنگ زیتونی سبز ہوگا۔

اس کے علاوہ سگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیاں اس بات کی بھی پابند ہوں گی کہ وہ پیکٹوں پر سگریٹ پینے کے نقصانات کے بارے میں واضح طور پر انتباہی گرافکس بھی چھاپیں۔

یہ قانون آسٹریلوی حکومت نے گذشتہ سال منظور کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے سادہ پیکٹس ملک میں سگریٹ نوشوں کی تعداد کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

سگریٹ بنانے والے بڑی کمپنیوں نے اس قانون کو چیلنج کیا تھا جن میں برٹش امریکین ٹوبیکو اور فلپ موریس شامل ہیں۔

یہ نئے قوانین یکم دسمبر دو ہزار بارہ سے لاگو ہوں گے۔

تاہم سگریٹ سازوں کا کہنا ہے کہ پیکٹوں پر سے کمپنی کا نام اور مخصوص رنگ ختم کرنے سے ان کے منافع میں انتہائی کمی ہوگی۔

"یہ ایک بُرا قانون ہے جو صرف منظّم جرائم پیشہ گروہوں کو فائدہ دے گا جو سڑکوں اور گلیوں میں تمباکو فروخت کرتے ہیں۔"

برٹش امریکین ٹوبیکو کمپنی

انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے نقلی سگریٹس مارکیٹ میں آنے کا خدشہ ہے۔

آسٹریلیا میں برٹش امریکین ٹوبیکو کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بُرا قانون ہے جو صرف منظّم جرائم پیشہ گروہوں کو فائدہ دے گا جو سڑکوں اور گلیوں میں تمباکو فروخت کرتے ہیں۔‘

کمپنیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قانون آسٹریلوی آئین کے خلاف ہے کیونکہ یہ کمپنیوں کو ان کے ٹریڈ مارک اور برانڈ نام کے استعمال کے حق سے محروم کر رہا ہے۔

تاہم برٹش امریکین ٹوبیکو کا کہنا ہے کہ ان کے کمپنی نئے قوانین کا احترام کرے گی۔

’حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے ہم سے ہمارا استحقاق چھینا ہے، ہم اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ہماری مصنوعات قانون کے نفاذ کی تاریخ تک سادہ پیکٹس میں دستیاب ہوں۔‘

آسٹریلیا میں سگریٹس کی سادہ پیکٹوں میں فروخت کا قانون دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے۔

برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور بھارت سمیت دنیا کے کئی مالک اسی طرح کے قوانین متعارف کروانے پر غور کر رہے ہیں اور وہ اس مقدمے کے فیصلے پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔