جنوبی افریقہ: کان کنوں اور پولیس میں جھڑپ، 30 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 10:34 GMT 15:34 PST
جنوبی افریقہ کانکن

ماریکانہ کان میں ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان رشتے پہلے سی ہی کشیدہ ہیں

جنوبی افریقہ کے وزیر داخلہ کے مطابق ماریکانہ کان میں ہڑتالی کان کنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے ان ہڑتالی کان کنوں پر فائرنگ جو کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے۔

لونمن کی ماریکانہ میں واقع کان گزشتہ کئی ماہ سے ملازمین کی تنخواہ کے مسئلے پر کشیدگی کا مرکز رہی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت زیادہ بڑھ گئی جب وہاں موجود دو حریف مزدور یونینز میں جھگڑا شروع ہوا۔

ہڑتال کے دوران پر تشدد واقعات میں پہلے ہی دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے وزیر داخلہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا ’ متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘۔

نسلی تعصب کے خاتمے کے بعد سے جنوبی افریقہ میں اب تک ہونے والا یہ سب سے خونریز پولیس آپریشن ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماریکانہ کان کے قریب کئی ہزار کان کنوں کے اکٹھا ہونے کے بعد پولیس کو مداخلت کے لیے بھیجا گیا تھا کہ تبھی پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔

پولیس کی جانب سے فائرنگ شروع کرنے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوئی۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے فائرنگ اس وقت شروع کی جب مظاہرین نے پولیس کی لائن کراس کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ ماریکانہ کے کان کن اپنی تنخواہ میں ہر ماہ ایک ہزار ڈالر کے اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے جنوبی افریقہ کی نیوز ایجنسی ساپا کو بتایا ہے کہ پولیس نے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا اس کے بعد آنسو گیس اور گرینیڈ پھینکے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

وہیں جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کا کہنا ہے کہ تشدد کے اس واقعے پر وہ حیران اور مایوس ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔