کان کن ہلاکتیں: تحقیقات کے لیے انکوائری کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 21:31 GMT 02:31 PST

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ماریکانہ کان میں ہڑتالی کان کنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ہونے والی ہلاکتوں کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے انکوائری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں ماریکانہ کان میں ہڑتالی کان کنوں اور پولیس کے درمیان جمعرات کو ایک جھڑپ میں کم سے کم چونیتس افراد ہلاک اور اٹھہتر زخمی ہو گئے تھے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کا کہنا ہے کہ تشدد کے اس واقعے پر وہ حیران اور مایوس ہیں۔

صدر نے اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعہ سے صدما پہنچا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’ہمیں اس واقعہ کی اصل حقیقت جاننے ہو گی اور اس کے لیے میں نے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اس کے اصل محرکات کا پتہ چلائے گا۔‘

"یہ وقت ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کا نہیں بلکہ ملک میں امن قائم کرنے اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کرنے کا ہے۔"

جنوبی افریقہ کے صدد جیکب زوما

جنوبی افریقہ کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کی ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جن کے پیارے اس واقعہ میں ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا ’ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کا نہیں بلکہ ملک میں امن قائم کرنے اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کرنے کا ہے۔‘

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما موزمبیق میں ہونے والے ایک علاقائی سربراہی اجلاس کو چھوڑ کر واپس جنوبی افریقہ پہنچ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ لونمن کی ماریکانہ میں واقع کان گزشتہ کئی ماہ سے ملازمین کی تنخواہ کے مسئلے پر کشیدگی کا مرکز رہی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت زیادہ بڑھ گئی جب وہاں موجود دو حریف مزدور یونینز میں جھگڑا شروع ہوا۔

دوسری جانب چند ہڑتالی کان کنوں کی بیویاں جمعے کو کان کے قریب اکھٹی ہوئیں، انہوں نے پولیس مخالف گانے گائے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطاقب اس موقع پر انہوں نے بیرز اٹھائے ہوئے تھے جس پر پولیس کے خلاف نعرے درج تھے۔

نسلی تعصب کے خاتمے کے بعد سے جنوبی افریقہ میں اب تک ہونے والا یہ سب سے خونریز پولیس آپریشن ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماریکانہ کان کے قریب کئی ہزار کان کنوں کے اکٹھا ہونے کے بعد پولیس کو مداخلت کے لیے بھیجا گیا تھا کہ تبھی پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔

پولیس کی جانب سے فائرنگ شروع کرنے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوئی۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے فائرنگ اس وقت شروع کی جب مظاہرین نے پولیس کی لائن کراس کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ ماریکانہ کے کان کن اپنی تنخواہ میں ہر ماہ ایک ہزار ڈالر کے اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس نے پہلے واٹر کینن کا استعمال کیا اس کے بعد آنسو گیس اور گرینیڈ پھینکے۔

ادھر پولیس سربراہ ریا کا کہنا ہے کہ پولیس کو اپنا دفاع کرنے پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دو سو انسٹھ افراد کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔