اسانژ پناہ: امریکی وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 00:36 GMT 05:36 PST

اسانژ کو سویڈن میں مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں

جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور کی جانب سے وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو سیاسی پناہ دینے کے بعد برطانیہ اور ایکواڈور کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی پر بات چیت کے لیے امریکی براعظم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آئیندہ جمعے کو طلب کر لیا گیا ہے۔

ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو جمعرات کو سیاسی پناہ دی تھی۔

جولین اسانژ سویڈن میں قائم ایک مقدمے میں برطانوی حکام کو مطلوب ہیں اور وہ جون سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسانژ کو سویڈن میں مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

امریکی ریاستوں کی آرگنایزیشن (او اے ایس) کے تیئس ارکان نے واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس کے حق میں ووٹ دیا۔

ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو جمعرات کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا تھا تاہم برطانیہ کا موقف ہے کہ وہ اسانژ کو ملک چھوڑنے کا محفوظ راستہ فراہم نہیں کرے گا۔

ایکواڈور کا موقف ہے کہ جولین اسانژ کو سویڈن کے حوالے کرنے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے جون میں اسانژ کی وہ درخواست رد کر دی تھی جس میں انہیں مبینہ جنسی جرائم پر سویڈن کے حوالے کیے جانے کے خلاف دوبارہ اپیل کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسانژ جنسی جرائم کے ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

سویڈن کے حکام جولین اسانژ سے وکی لیکس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین کی جانب سے دو ہزار دس کے وسط میں لگائے گئے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات کے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اسانژ پر باقاعدہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی ہے۔

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس جنسی عمل میں فریقین کی رضامندی شامل تھی۔

اسانژ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا تو انہیں ممکنہ طور پر امریکہ بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان پر وکی لیکس پر امریکی خفیہ دستاویزات افشاء کرنے سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔