ہم جنس پرستوں کی پریڈ پر سو سال تک پابندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 13:14 GMT 18:14 PST

روسی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نکولائی ایلیکسییو نے اس امید پر عدالت سے رجوع کیا تھا کہ وہ شہری انتظامیہ کی اس پابندی کو ختم کر دے گی۔

ماسکو کی ایک اعلیٰ عدالت نے ہم جنس پرستوں کی پریڈ یا مارچ پر اگلے سو سال کے لیے پابندی کو برقرار رکھا ہے۔

روسی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نکولائی ایلیکسیو نے اس امید پر عدالت سے رجوع کیا تھا کہ وہ شہری انتظامیہ کی اس پابندی کو ختم کر دے گی۔

نکولائی ایلیکسیو گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں کر رہے ہیں کے روسی ہم جنس پرست ماسکو میں پریڈ کا اہتمام کر سکیں۔ وہ سینٹ پیٹرزبرگ شہر کی انتظامیہ کی طرف سے ’ہم جنس پرست پراپگینڈہ‘ پر پابندی کے بھی خلاف ہیں۔ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے روسی حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ نکولائی ایلیکسیو کو ہرجانہ ادا کریں۔

جمعہ کو انہوں نے کہا کہ سٹراسبرگ میں یورپین عدالت سے اس پابندی کے حوالے سے رجوع کریں گے کہ یہ پابندیاں ماضی، حال یا مستقبل میں غیر منصفانہ تھیں۔

ماسکو کی شہری انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی پریڈ شہریوں میں بے چینی کا باعث بنے گی اور اکثر ماسکویٹس اس طرح کی چیزوں کے حق میں نہیں ہیں۔

روسی میڈیا کے مطابق ستمبر میں یورپ کا انسانی حقوق کا نگران ادارہ کونسل آف یورپ، یورپین عدالتوں کی طرف سے کیے گئے سابقہ فیصلوں پر روس کے ردعمل کا جائزہ لے گا۔

اکتوبر دو ہزار دس میں عدالت نے کہا تھا کے روس نے نکولائی ایلیکسیو کی جنسی ترجیحات کی بنیاد پر ان سے متعصبانہ سلوک کیا۔ عدالت نے ہم جنس پرستوں کی پریڈ پر دو ہزار چھ سے دو ہزار آٹھ کے دوران پابندی کا جائزہ لیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔