افغان حکومت میں شراکت چاہیے، ملا عمر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 14:29 GMT 19:29 PST

ملا عمر نے اپنے بیان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کیا

افغانستان میں طالبان کے رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت میں شراکت چاہتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے عید کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں کہی ہے۔

طالبان رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ وہ دو ہزار چودہ میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد حکومت میں مکمل شراکت داری چاہتے ہیں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دفاع بھی کیا ۔ انہوں نے اس بات چیت کو ایک ’حکمت عملی‘ قرار دیا۔

ملا عمر نے اس پیغام میں عوامی مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’طالبان تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔ ‘

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں سکولوں کو زہر سے آلودہ کرنے کے واقعات اور دوسرے حملوں میں طالبان ملوث نہیں ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں شہریوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔

طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات رواں برس مارچ میں اس وقت تعطل کا شکار ہوئے جب طالبان نے اعلان کیا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے۔

طالبان کی ایک ویب سائٹ پر شائع کیے گئے اعلان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ امریکہ مذاکرات کی شرائط میں مستقل تبدیلیاں کر رہا ہے۔

بیس جولائی کو کابل میں پاکستانی وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان اپنے ملک میں موجود افغان طالبان کو امن مذاکرات میں حصہ لینے کی اجازت دے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔