پُسی رائٹ کو دو برس قید کی سزا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 17:30 GMT 22:30 PST

اِس مقدمے کے بارے میں روس میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے

روسی میوزک بینڈ پُسی رائٹ کی تین اراکین کو ماسکو کی عدالت نے دو برس قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ خواتین ہلڑ بازی کی مرتکب ہوئیں جس کی بنیاد مذہب سے نفرت تھی۔

یہ حالیہ برسوں میں روس میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا مقدمہ ہے۔

جج میرینا سائرووا کا کہنا تھا کہ اِن خواتین کے طرزِ عمل سے سماجی استحکام کو ٹھیس پہنچی۔

تینوں خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ روسی آرتھوڈاکس چرچ کی جانب سے صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے خلاف ایک سیاسی احتجاج تھا۔

پُسی رائٹ نامی اِس پنک میوزک گروپ کی اِن تینوں اراکین پر ماسکو کے ایک چرچ میں صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف گانا گانے، ہلڑبازی اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

خواتین کے لیے مساوی حقوق کے حامی اِس میوزک بینڈ کی اِن خواتین کو فروری میں حراست میں لیا گیا تھا اور ان الزامات کے تحت انہیں سات سال تک قید ہو سکتی تھی۔

اس گروپ کے خلاف مقدمے پر روس میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ مذہبی حلقے اِس واقعے پر بہت ناراض ہیں۔

اس واقعے کے بعد روس کے آرتھوڈوکس چرچ میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا اور انہوں نے بینڈ کے عمل کو گرجا گھر کی توہین قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اس گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کے معاملے میں کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔