برما: فسادات کی تحقیقات کےلیے کمیشن قائم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 03:23 GMT 08:23 PST
Rohingya burma muslim

تشدد کے واقعات کے بعد ہزاروں روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔

برما کی حکومت نے بدھوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے تشدد میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

اس بات کا اعلان برما کے صدر تھین سین نے کیا۔ وہ اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی جانب سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر چکے ہیں۔

برما میں رخائین بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد بے گھر بھی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ نے تحقیقات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’امن کی بحالی میں اہم قدم‘ ثابت ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس (تحقیقات) سے تشدد کا باعث بننے والے پوشیدہ مسائل کو زیادہ وسیع پیمانے پر جاننے میں مدد ملے گی جن میں رخائین میں مسلم آبادی کے حالات بھی شامل ہیں۔ ‘

جمعے کو برما کے صدر کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ستائیس رکنی کمیشن میں مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

بیان کے مطابق کمیشن اپنی رپورٹ اگلے ماہ پیش کرے گا۔

برما کے علاقے رخائین میں تشدد مئی کے آخر میں شروع ہوا جب ایک بودھ خاتون کو تین مسلمانوں نے جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا۔ اس کے بعدد مشتعل بدھوں نے دس مسلمانوں کو قتل کر دیا جن کا قتل کی واردات سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔

بعد ازاں ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلتے گئے اور بودھوں اور مسلمانوں دونوں کے ہی گھر نذر آتش کیے گئے۔

عالمی ادارہ برائے پناہ گزیں کے مطابق اس تشدد کے باعث ستوے اور مونگدو کے علاقوں سے اسّی ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

رخائین میں بدھوں کی اکثریت ہے اور طویل عرصے سے ان کے اور مسلمانوں کے بیچ کشیدگی چلی آ رہی ہے۔

یہاں مقیم زیادہ تر مسلمان روہنگیا کہلاتے ہیں جو بنیادی طور پر بنگال، جو اب بنگلہ دیشن کہلاتا ہے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔