امریکہ وکی لیکس کی تلاش ختم کرے: اسانژ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 19 اگست 2012 ,‭ 18:42 GMT 23:42 PST

جولین اسانژ خواتین کوجنسی طور پر حراساں کرنے کے الزام میں سویڈن کو مطلوب ہیں

وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے بیان دیتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وکی لیکس کے کارکنوں کو پکڑنا بند کرے۔

جولین اسانژ نے ایکواڈور سفارت خانے میں پناہ لینے کے بعد اپنے پہلے بیان میں انہیں سیاسی پناہ دینے پر ایکواڈور کے صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انھوں نے وکی لیکس کو خفیہ دستاویزات دینے کے الزام میں امریکہ میں زیر حراست براڈلے میننگ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ جولین اسانژ خواتین کوجنسی طور پر حراساں کرنے کے الزام میں سویڈن کو مطلوب ہیں۔

سویڈن کے حکام جولین اسانژ سے وکی لیکس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین کی جانب سے دو ہزار دس کے وسط میں لگائے گئے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات کے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اسانژ پر باقاعدہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی ہے۔

"جس طرح وکی لیکس خطرے میں ہے اسی طرح ہمارا معاشرہ بھی خطرے میں ہے۔ اب یہ امریکہ کو طے کرنا ہے کہ وہ روایات کی قدر کرتا ہے یا پھر ڈرانے دھمکانے والے ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں صحافی خاموش ہوتے ہیں اور شہری سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں"

وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس جنسی عمل میں فریقین کی رضامندی شامل تھی۔

جولین اسانژ نے اپنے بیان میں کہا ’جس طرح وکی لیکس خطرے میں ہے اسی طرح ہمارا معاشرہ خطرے میں ہے۔ اب یہ امریکہ کو طے کرنا ہے کہ وہ روایات کی قدر کرتا ہے یا پھر ڈرانے دھمکانے والے ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں صحافی خاموش ہوتے ہیں اور شہری سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں۔‘

ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو جمعرات کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا تھا تاہم برطانیہ کا موقف ہے کہ وہ اسانژ کو ملک چھوڑنے کا محفوظ راستہ فراہم نہیں کرے گا۔

ایکواڈور کے وزیرِ خارجہ نے بتایا تھا کہ برطانیہ نے ’دھمکی‘ دی ہے کہ برطانوی حکام ان کےملک میں پناہ کے طالب وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو گرفتار کرنے کے لیے ایکواڈور کے سفارتخانے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اسانژ کی ملک بدری برطانیہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

ایکواڈور کا موقف ہے کہ جولین اسانژ کو سویڈن کے حوالے کرنے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

امریکہ وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خفہ سفارتی مراسلوں کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے جس کی وجہ سے کئی ملکوں اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے جون میں اسانژ کی وہ درخواست رد کر دی تھی جس میں انہیں مبینہ جنسی جرائم پر سویڈن کے حوالے کیے جانے کے خلاف دوبارہ اپیل کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسانژ جنسی جرائم کے ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔