کینیا: فسادات میں اڑتالیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 23:30 GMT 04:30 PST

جزوی طور پر بنجر یہ علاقہ کینیا کے غریب ترین اور پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے

کینیا میں پولیس حکام کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی حصے میں نسلی کشیدگی میں اڑتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقامی پولیس کے سربراہ جوصف کیتور کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپیں کوست صوبے کے تانہ دریا کے ضلع میں منگل کے روز اورما اور پوکومو قبیلوں کے درمیان ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر عورتیں اور بچے ہیں جن میں سے کئی کوبڑے بڑے چاقوں کی مدد سے مارا گیا۔

چار سال قبل انتخابات کے متنازع نتائج کی وجہ سے ہونے والی کشیدگی کے بعد ملک کے یہ سب سے مہلک فسادات ہیں۔

ان فسادات کی وجہ مال مویشیوں کو مخصوص مقامات پر چرانے کے حقوق کا تنازع بتایا جاتا ہے۔

جوصف کیتور نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکتیس خواتین، گیارہ بچے اور چھ مرد شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ کیا اس واقعے کے سلسلے میں کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ حملہ پوکومو قبیلے نے اورما پر کیا۔

مقامی قانون ساز دانسن منگاتانہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے اور یہ ایک سابقہ حملے کی جوابی کارروائی ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مسائل کافی عرصے سے جاری ہیں۔

دارالحکومت نائیروبی سے بی بی سی کے نامہ نگار فرنی جووی کا کہنا تھا کہ دونوں قبائل کے درمیان فسادات کی اکثر اطلاعات ملتی ہیں تاہم اس پیمانے پر کشیدگی نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں قبائل کے درمیان انتقامی کارروائیاں مال مویشیوں کو چرانے اور پانی کے حقوق کے معاملات پر ہوتی ہیں۔

سنہ دو ہزار ایک میں اسی خطے میں کشیدگی کے دوران ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جزوی طور پر بنجر یہ علاقہ کینیا کے غریب ترین اور پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔